کراچی میں میٹرک کے سالانہ امتحانات میں دفعہ 144 کا نفاذ تو کر دیا گیا لیکن امتحانی مراکز میں پولیس کی تعیناتی ممکن نہ ہو سکی

کراچی میں میٹرک کے سالانہ امتحانات میں دفعہ 144 کا نفاذ تو کر دیا گیا لیکن امتحانی مراکز میں  پولیس کی تعیناتی ممکن نہ ہو سکی

کراچی میں ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں ساڑھے تین لاکھ طلبہ و طالبات حصہ لے رہے ہیں۔ امتحانات سے قبل چئیرمین میٹرک بورڈ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ میٹرک بورڈ نے نجی اسکولز میں سینٹرز تو بنا لئے لیکن سہولتیں فراہم کرنا بھول گئے ۔ بورڈ کی جانب سے فراہم کی گئی کرسیاں بورڈ کی ناقص کارکردگی کی نوید سنا رہی ہیں۔ نجی اسکولز کی پرنسپل بھی بورڈ کی ناقص کارکردگی سے پریشان ہیں۔
گزشتہ سال بھی موٹرسائیکل پر امتحانی پرچوں کی ترسیل کے باعث 80 امتحانی کاپیاں اور پرچے چوری ہوئے تھے۔ اس کے باوجود میٹرک بورڈ انتظامیہ نے اپنی روش نہ چھوڑی۔ آج بھی میٹرک بورڈ آفس سے امتحانی مراکز تک امتحانی پرچے اور کاپیاں بورڈ اسٹاف موٹرسائیکل پر لاتے اور لے جاتے ہیں۔وزیر تعلیم سندھ نثار کھوڑو اور میٹرک بورڈ کی جانب سے امتحانی مراکز میں فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے اور دفعہ 144 نافذ کرنے کے دعوے کئے گئے لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ نے فوری سکیورٹی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔۔
کیمرہ مین بابر احمر کے ساتھ ساجد اعوان وقت نیوز کراچی