شاہد حامد کیس ری اوپن کیا جائے: اہلیہ صولت مرزا، پھانسی رکوانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

شاہد حامد کیس ری اوپن کیا جائے: اہلیہ صولت مرزا، پھانسی رکوانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

کراچی، کوئٹہ (بیورو رپورٹ + بی بی سی) سندھ ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا کی بیوی کی درخواست پر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مقتول ایم ڈی شاہد حامد اور ان کے گارڈ کے مقدمے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں ڈویڑن بینچ نے یہ حکم صولت مرزا کی بیوی نگہت مرزا کی درخواست پر جاری کیا۔ نگہت مرزا نے اپنی درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی جیلز، سینٹرل جیل کراچی اور مچھ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا ہے۔ عدالت نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی۔ نگہت مرزا نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے شوہر صولت مرزا کے حالیہ بیان کی روشنی میں شاہد حامد قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کی جا رہی ہے، اس لیے جب تک یہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکا جائے۔ صولت مرزا کی بیوی کا موقف ہے کہ اگر سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے شوہر نے شاہد حامد کے قتل میں ملوث مزید چھ ملزمان کی نشاندہی کی ہے اور اگر ان کو شامل تفتیش کیا جائے تو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان تک رسائی ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت صولت مرزا کو 12 مئی کو پھانسی دینے کے لیے بلیک وارنٹ جاری کر چکی ہے جس کے بعد ایک بار پھر خاندان کی ویڈیو لنک کے ذریعے آخری ملاقات کرائی جا چکی ہے۔ صولت مرزا نے پھانسی پر عمل درآمد سے قبل ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سمیت دیگر رہنماؤں پر شاہد حامد کے قتل کیس میں ملوث ہونے سمیت سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد ان کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔ صولت مرزا سے ملاقات کرنے والوں میں ان کے بھائی نصرت وجہت اور بہن ایک کم عمر لڑکا شامل تھے۔ صولت مرزا سے طویل ملاقات آڈیو کال کے ذریعے کی گئی۔