ذوالفقار مرزا کے فارم ہاﺅس کا محاصرہ ختم‘ ضمانت میں 9 مئی تو توسیع‘ صوبائی حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

ذوالفقار مرزا کے فارم ہاﺅس کا محاصرہ ختم‘ ضمانت میں 9 مئی تو توسیع‘ صوبائی حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

بدین/ کراچی( نامہ نگار/ وقائع نگار)سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا سمیت ان کے 11ساتھیوں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔دوسری جانب مرزا فارم ہاو¿س کے اطراف سے اضافی پولیس نفری ہٹالی گئی ہے ۔اب صرف اطراف میں بدین پولیس کے اہلکار موجود ہیں ۔پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ کڑیو گھنور میں ذوالفقار مرزا سمیت ان کے 11ساتھیوں کے خلاف ارادہ قتل اور کار سرکار میں مداخلت سمیت دفعات شامل کرکے ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ جبکہ پولیس نے مرزا فارم ہاو¿س کے اطراف سے پولیس کی اضافی نفری اور موبائلز ہٹالی ہیں واضح رہے کہ ذوالفقار مرزا کے فارم ہاو¿س کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی ۔اب صرف وہاں پر بدین پولیس کے اہلکار موجود ہیں ۔ ذوالفقار مرزا نے لوگوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں ۔ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے میرے گھر کا محاصرہ ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میری اور آصف زرداری کی دوستی ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد پولیس فورس کو ہٹایا گیا ہے ۔سابق وزیرداخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کے وکیل اشرف سموں نے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت میں توسیع کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔بدھ کو دائر کی گئی درخواست میں اشرف سموں نے ضمانت میں توسیع کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت ،ہوم سیکرٹری، آئی جی سندھ اور دیگر ماتحت پولیس افسران کیخلاف توہین عدالت کی درخواست بھی جمع کروادی ہے۔ اشرف سموں ایڈوکیٹ نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو عدالت پہنچنے سے روکا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے باہرصحا فیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل اشرف سموں نے کہا کہ سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا خود عدالت آکر اپنا دفاع کرنا چاہتے ہیں تاہم پولیس اہلکاروں کی جانب سے انکی جان کو خطرہ لاحق ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے ذوالفقارمرزا کی درخواست ضمانت میں نومئی تک توسیع کردی جبکہ توہین عدالت کی درخواست نمٹادی سندھ ہائی کورٹ میں سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے وکیل اشرف سموں نے ذوالفقار مرزا کی عبوری درخواست ضمانت میںتوسیع اور پولیس و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی جس کی پہلی سماعت جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو اور جسٹس شوکت میمن پر مشتمل دورکنی بنچ نے کرنا تھی لیکن جسٹس شوکت میمن نے درخواست سننے سے انکار کردیا جس کے بعد درخواست کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس فیصل عرب نے کی جہاں عدالت نے ان کی درخواست ضمانت میں نومئی تک توسیع کرتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بدین میں خوف کی فضا قائم کی گئی ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ذوالفقار مرزا کو سیکورٹی کیوں فراہم نہیں کی جارہی ہے یہ ان کا حق ہے جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ جب تک ان کی ضمانت میں توسیع ہوئی ہے ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا جس کے بعد عدالت نے توہین عدالت کی درخواست بھی مسترد کردی اور ضمانت میں نومئی تک توسیع کردی ہے۔
محاصرہ ختم