ذوالفقار مرزا کیخلاف 4 مقدمات کراچی منتقل، عدم گرفتاری پر بدین میں شٹر ڈائون

ذوالفقار مرزا کیخلاف 4 مقدمات کراچی منتقل، عدم گرفتاری پر بدین میں شٹر ڈائون

کراچی + بدین + حیدر آباد (نوائے وقت رپورٹ + نامہ نگار + ایجنسیاں) ذوالفقار مرزا کے خلاف انسداد دہشت گردی کے چار مقدمات بدین سے کراچی منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کے ساتھیوں کی عدم گرفتاری کے خلاف پیپلز پارٹی اور تاجر اتحاد کی کال پر ضلع بدین کے مختلف شہروں میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ پنگریو میں احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جبکہ ذوالفقار مرزا نے اپنی حفاظت کے لئے فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے، فورس کو ’’جانثاران ذوالفقار مرزا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز ضلع بدین اور پنگریو میں ذوالفقار مرزا اور مقدمات میں نامزدان کے ساتھیوں کی عدم گرفتاری کے خلاف تاجر اتحاد کی کال پرشٹرڈائون ہڑتال کی گئی۔ تاجر اتحاد بدین نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاریوں کے لئے تین روز کا الٹی میٹم دیا تھا۔ شہر کے کاروباری اور تجارتی مراکز بند اور سڑکیں سنسان ہو گئے۔ علاوہ ازیں ذوالفقار مرزا کے خلاف مقدمات کی کراچی میں سماعت ہو گی، سندھ ہائیکورٹ نے مقدمات بدین سے کراچی منتقل کر دئیے۔ علاوہ ازیں سابق سپیکر قومی اسمبلی ایم این اے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہاہے کہ ایس ایس پی بدین جان بوجھ کر حرکات کرکے کوئی خطرناک کھیل کھیلنا چاہتا ہے،افسوس ہے پیپلز پا رٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کو ئی نوٹس نہیںلیا جا رہا، گذشتہ صبح اچانک ایس ایس پی بدین خا لد مصطفیٰ کو رائی کی نگرانی میں پولیس کی بھاری نفری نے دوبارہ مرزا فارم ہا ئوس کا محاصرہ کرلیا اور فارم کی طرف جا نے والے تمام راستے سیل کر دیئے گئے۔ جمعرات کو مرزا فارم ہا ئوس پر میڈیا سے گفتگو میں فہمیدہ مرزا نے کہاکہ افسوس ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیںلیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ آصف زرداری ذاتی فائدے کے لئے مفاہمت کرنا چاہتے ہیں پڑھے لکھے خاندان سے ہوں قانون نہیں توڑوں گا میرے شواہد آصف زرداری کو پھانسی تک پہنچانے کے لئے کافی ہیں۔ علاوہ ازیں سندھ حکومت نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے دور میں جاری کئے گئے اسلحہ لائسنس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سینکڑوں مینوئل اسلحہ لائسنس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ سندھ حکومت ذرائع کے مطابق سابق وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔