سندھ حکومت عزیر بلوچ کو دبئی حکام کے سامنے مطلوب ملزم ثابت کرنے میں ناکام

سندھ حکومت عزیر بلوچ کو دبئی حکام کے سامنے مطلوب ملزم ثابت کرنے میں ناکام

کراچی (نیوز ڈیسک/آن لائن) حکومتِ سندھ ملزم عزیر جان بلوچ کو مطلوب قرار دلانے میں ناکام ہوگئی، دبئی حکام نے دستاویزی ثبوت مسترد کر د ئیے ہیں،میڈیا رپورٹ کے مطابق لیاری کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والے مبینہ ملزم عزیرجان بلوچ کو حکومت سندھ مطلوب ملزم قرار نہ دلا سکی، دبئی حکام نے مزید ثبوت مانگ لئے۔ واضح رہے کہ کالعدم پیپلز امن کمیٹی کا سربراہ عزیر بلوچ بلوچستان کے راستے بیرون ملک فرار ہوا تھا۔ عزیر جان بلوچ کو جعلی پاسپورٹ کے استعمال پر گرفتار کیا گیا تو سندھ پولیس ایسے خوش ہوئی جیسے یہ ان کا کارنامہ ہے۔ پولیس افسران پر مشتمل ٹیمیں عزیر بلوچ کو وطن لانے کیلئے بلند بانگ دعوے کرتی ہوئی دبئی روانہ ہوئیں، لیکن ملزم کو لئے بغیر نامراد واپس آگئیں۔ امارات حکام کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کئے گئے ہیں اگر سندھ حکومت کوعزیر بلوچ واقعی مطلوب ہے تو اس کے سزا یافتہ ہونے کے واضح ثبوت فراہم کریں،، پولیس کی جانب سے دبئی حکام کو دی گئی دستاویزات وزارت خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں جب کہ سندھ حکومت کی جانب سے بھی پولیس حکام کو مکمل طور پر ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا جس کے باعث دبئی کی عدالت نے ملزم کی حوالگی کے لئے ریکارڈ کو ناکافی قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب عزیر بلوچ کی گرفتاری کے لئے جانے والے پولیس افسران کے ویزوں کی معیاد بھی ختم ہونے کو ہے جب کہ دیگر پولیس افسران پہلے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ دریں اثناء نادرا حکام کی سنگین غفلت کے باعث لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیز بلوچ کے 2 قومی شناختی کارڈ بنوا لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک نجی ٹی وی نے دونوں شناختی کارڈز کا عکس دکھاتے ہوئے بتایا عزیر علی ولد فیض محمد کے نام سے جاری ہونے والے کارڈ میں سنگولین لیاری کراچی کا پتہ درج ہے مگر خاندان نمبر مختلف ہے۔