ٹھٹھہ: زائرین کی کشتی الٹنے سے5 خواتین 5 بچوں سمیت22 افراد جاں بحق،35 زخمی

کراچی (کرائم رپورٹر‘نوائے وقت رپورٹ ‘بی بی سی) ٹھٹھ کے ساحلی علاقے بوہارہ میں زائرین کی کشتی الٹنے سے 16 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت 60 سے زائد زائرین سوار تھے اور نیو بھٹائی پیر میلے میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔ ایدھی ویلفیئر کے ذرائع کے مطابق ڈوبنے والے 15افراد کی نعشوں کو نکال کر سول ہسپتال گھارو پہنچادیا گیا ‘ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق زائرین جس کشتی میں سوار ہوئے اس میں تقریباً 200 افراد کی گنجائش تھی لیکن کنارے پر تیز ہوا اور مسافروں کی جلدبازی کے باعث کشتی الٹ گئی۔ حادثے کے بعد کئی افراد کنارے پر ہی پانی میں ڈوبے ۔ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کے مطابق سمندر میں ڈوبنے والے 47 افراد کو بچا لیا گیا۔ پاک فوج کے غوطہ خور اور پاک بحریہ کا ریسکیو اور میڈیکل سٹاف امدادی کاموں میں مصروف رہا۔ جاں بحق افراد میں 6 مرد، 5 بچے اور 5 خواتین شامل ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ٹھٹھہ کے حکام کا کہنا ہے ساحلی علاقے میں دو کشتیاں ٹکرانے کے باعث حادثہ ہوا۔ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے وزیراعلی سندھ کو ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے 16 نعشیں نکالی گئی ہیں اور 20 سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے دو کشتیاں جن میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے میھو پٹائی کی مزار پر جا رہے تھے کہ تیز ہوا کے باعث کشتیاں آپس میں ٹکرا گئیں اور یہ واقعہ پیش آیا۔ شیخ زید ہسپتال میرپور ساکرو کے ڈاکٹر گل میمن نے بتایا ان کے پاس 16 نعشیں اور 35 زخمیوں کو لایا گیا کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا، تاہم 52 مسافروں کو باہر نکال لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے ٹھٹھہ کے قریب سمندر میں کشتی الٹنے کے واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔