پورٹ قاسم پر نیا ایل این جی ٹرمینل افتتاح کے دو ہفتے بعد ہی خراب ہو گیا

کراچی(آن لائن) پورٹ قاسم پربننے والے پاکستان کے دوسرے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ری فلنگ گیس ٹرمنل اپنے آغاز کے دو ہفتے بعد ہی تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا، زیر زمین پائپ لائن میں تکنیکی خرابی کے باعث سسٹم میں دوبارہ گیس شامل نہیں کی جاسکی۔واضح رہے کہ اس ٹرمنل کا افتتاح وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 20 نومبر دورہ کراچی کے موقع پر کیا تھا۔صنعتی ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ یہ خرابی آئندہ چند ہفتوں تک لائن اپ کارگوز کی منسوخی کا باعث بنے گی۔خیال رہے کہ جس وقت زیر آب موجود پائپ لائن میں خرابی پیش آئی، اس وقت دو ایل این جی سے بھرے جہاز پورٹ پر فلوٹنگ سٹوریج اینڈ ری گیسیفیکشن یونٹ (ایف ایس آر یو) میں منتقل کیے جانے کے منتظر تھے۔اندرونی ذرائع کا کہا ہے کہ یہ خرابی پائپ لائن کے نظام، ایف ایس آر یو اور اس سے منسلک انفرااسٹرکچر کے معیار پرسوالیہ نشان پیدا کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ابتدائی ٹیسٹنگ کم از کم 50 فیصد زیادہ دباؤ یعنی 1500 پونڈ فی مربع انچ ( پی ایس آئی) سے زیادہ ہونی چاہیے جبکہ اس پائپ لائن کو 1000 پی ایس آئی سے کم پر اس خرابی کا سامنا کرنا پڑا۔دوسرا ایل این جی ٹرمنل پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ (پی جی پی ایل) کے ایک کنسورشیم کے تحت تیار کیا گیا ہے، اس حوالے سے جب پی جی پی ایل کے ترجمان اور ڈائریکٹر فصیح سے رابطہ کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔اس بارے میں پی جی پی ایل اور ایف ایس آر یو کے قریبی کام کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس لیک کا واقعہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس کے لیے ہنگامی میکانزم تیار کیا جانا چاہیے تھا، انہوں نے کہا کہ اس مرحلے تک پہنچنے میں کم سے کم 10 سے 15 دن درکار ہوں گے، جس کے بعد گیس پریشر کو دوبارہ بحال کیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے بہت سی دیگر شپمنٹ بھی منسوخ، معطل یا دوسری جانب بھی موڑا جاسکتا ہے، جس کے لیے متعلقہ حکام نے سپلائر کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کے مفاد کے لیے قابل قبول طریقے سے بات کرنی ہوگی، دوسری جانب موسم سرما میں گیس کی طلب میں اضافے کے دوران گیس کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔