کراچی: اہلسنت و الجماعت کے 2کارکنوں سمیت 5قتل، پولیس مقابلے میں 2طالبان مارے گئے

کراچی (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ+ کرائم رپورٹر) کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں  اہلسنت والجماعت کے 2 کارکنوں سمیت 5افراد جاں بحق جبکہ پولیس سے مقابلے کے دوران 2 طالبان مارے گئے، کارکنوں کے قتل پر اہلسنت والجماعت نے  یونیورسٹی روڈ پر پرانی سبزی منڈی کے قریب احتجاج کیا، مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑک بلاک کردی جس سے ٹریفک معطل ہوگئی۔  ایس ایس پی ایسٹ پیر محمد شاہ کے مطابق پی آئی بی کالونی میں عسکری پارک کے قریب ایک گھر میں آئے مہمان سے کسی نے بدتمیزی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس پر دو گروپوں میں جھگڑا ہوگیا جسے حل کرنے کے لیے انہیں تھانے بھی بلایا گیا۔ تاہم پولیس صلح کرانے میں ناکام رہی۔ بعد میں مہمان پر تشدد کرنے والے گروپ نے تصفیے کی کوشش میں پیش پیش قاری عبدالرحیم اورنورزمان کو گلی میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ترجمان اہلسنت والجماعت کے مطابق دونوں مقتولین اہلسنت والجماعت کے مقامی ذمہ دار تھے۔ ادھر بلدیہ ٹائون کے علاقے اتحاد ٹائون میں پولیس مقابلے کے دوران کالعدم تحریک طالبان کے 2کارندے مارے گئے جن کا تعلق سواتی گروپ سے بتایا جا رہا ہے، دونوں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ ادھر پیرآباد کے ربانی محلے میں ایک کلو کا بم برآمد ہوا جسے بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا، بم لوہے کے ڈبے میں بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ گلستان جوہر میں محکمہ موسمیات کے دفتر کے نزدیک مسلح افراد نے 50سالہ محمد سلیم کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ گلشن معمار میں 25سالہ نوجوان کو سر میں گولی مارکر ہلاک کیا گیا اور پٹیل پاڑہ سے ایک شخص کی نعش ملی جسے تشدد کرکے ہلاک کیا گیا۔ پولیس کے مطابق فوری طور پر مقتول کی شناخت نہیں ہو سکی۔ مزید برآں اتوار کی شب کورنگی نمبر 3میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہو گیا جبکہ کورنگی نمبر 5میں ایک شخص 35سالہ نعمان کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا گیا۔ سرجانی کے علاقے سیکٹر 5ڈی میں بھی مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص 30سالہ خرم شہزاد کی جان لے لی۔ادھر نجی ٹی وی کے مطابق سندھ پولیس کیلئے اسلحے کی خریداری پر صوبائی حکومکت اور آئی جی میں اختلافات ہیں جس کے باعث سندھ پولیس کے سربراہ غیر فعال ہو گئے۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آئی جی سندھ اقبال محمود چار دن سے دفتر نہیں آئے اور عملاً کام چھوڑ دیا ہے۔ اختلافات کے باعث اقبال محمود کو سندھ بدر کر دیا گیا ہے۔ اس وقت سندھ پولیس کا کوئی والی وارث نہیں، سندھ پولیس اپنی پسند کے علاوہ کسی کو نیا آئی جی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ نئی تعیناتی پر وفاق اور سندھ حکومت میں ٹھن گئی۔ ڈیڈلاک کے باعث کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔