کراچی: ٹارگٹ کلنگ کے خلاف وکلا کا مظاہرہ، گیٹ پھلانگ کر سندھ اسمبلی میں داخل ، پولیس سے جھڑپ

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف وکلاء  نے سندھ اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ مشتعل مظاہرین گیٹ پھلانگ کر عمارت کے اندر داخل ہو گئے۔ نثار کھوڑو کی مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی پر وکلا نے دھرنا ختم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وکلا نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سٹی کورٹس اور ملیر کورٹس کی عدالتیں بند کرا دیں اور سندھ ہائی کورٹ میں جمع ہو گئے۔ سندھ ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور کبوتر چورنگی سے سندھ اسمبلی کی جانب روانہ ہوگئے۔ مقامی انتظامیہ نے گیٹ بند کر کے وکلا کو روکنے کی کوشش کی لیکن وکلاء نے زبردستی گیٹ کھلوا لیا اور اسمبلی کے سامنے پہنچ کر نعرے بازی شروع کر دی چند وکلاء  اسمبلی گیٹ پھلانگ کر اسمبلی کے احاطے میں داخل ہو گئے اور وہاں دھرنا دے دیا۔ اس موقع پر وکلا کی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔ سنیئر وزیر نثار کھوڑو نے ان وکلا سے بات چیت کی اور کہا کہ اسمبلی کے اندر اس طرح گھس آنا غیر مناسب ہے۔ علما اور دیگر افراد پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ وکلا کو ایوان کی عزت کرنی چاہئے۔ شہر میں قتل و غارتگری اور امن بحال کرنے کے لئے قانون نافذ کرنیوالے کام کر رہے ہیں۔ کراچی بار کے صدر بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہم شوق سے نہیں آئے۔ پُرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ نعشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں۔ حکومت نے پہلے بھی وعدے کئے ہیں لیکن تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا ا ور حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ وکلا کا کہنا تھا کہ 48 وکلا ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو چکے ہیں اور کوئی قاتل گرفتار نہیں ہوا۔ حکومت وکلا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے وکلا کے لواحقین کو معاوضہ ادا کیا جائے اور وکلا کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ نثار کھوڑو اسمبلی کے باہر جمع وکلا کے پاس گئے اور انہیں مطالبات پر عمل کرانے کی یقین دہانی کرائی جس پر وکلا رہنماؤں نے احتجاجی دھرنا ختم کر دیا تاہم اعلان کیا کہ دو ہفتے میں مطالبات پورے نہ ہوئے تو دوبارہ احتجا ج ہو گا۔