عابد شیر نے سندھ کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں جھونک دیا، وزیراعظم سے بات کرینگے: شرجیل میمن

کراچی (نوائے و قت رپورٹ+ ایجنسیاں) سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان کوئی تناؤ نہیں، سرکاری ادارے ہوں یا کوئی اور سب کو چیلنجز کے حل کے لئے متحد ہونا پڑے گا۔ سندھ اسمبلی کے باہر صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ایم کیو ایم کے دوستوں کو اعتماد میں لے کر چلے گی۔ متحدہ قومی موومنٹ جس طرح پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کررہی ہے، پیپلز پارٹی بھی ایم کیو ایم کے ساتھ تعاون کرتی رہے گی۔ ایم کیوایم کی جانب سے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے الزام پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، اس صورت میں کراچی میں روز مرہ زندگی معطل نہیں کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی باتیں غلط تناظرمیں نہ لی جائیں، ایم کیو ایم اتحادی ہے، اختلافات بھلا کر تمام اداروں کو مل کر چلنا چاہئے، وزیراعلیٰ کی ہڑتال سے متعلق باتوں کا مقصد وہ نہیں تھا جو لیا گیا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ماضی میں لوڈشیڈنگ کا عذاب اس حد تک نہیں تھا، جو اس وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت نے سرکاری اداروں کی بجلی بھی منقطع کروادی ہے اور انہوں نے سندھ کے دیہی علاقوں کو 20 بیس گھنٹوں کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے عذاب میں جھونک دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی کراچی آمد پر صوبائی حکومت ان سے اس حوالے سے ضرور بات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ ماحول میں جمہوری فورسز میں تنائو جمہوریت کے لئے بہتر نہیں۔ آپس کے اختلافات کو بھلانا ہوگا اور پوری قوم کو ایک ہونا ہوگا۔ صوبے میں بجلی کی پیداوار اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے بھی سکیموں کے سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ صوبے میں جہاں جہاں کول سائیڈ ہیں وہاں وہاں پلانٹ لگ رہے ہیں۔ بجلی کے لئے کہی بھی پلانٹ لگیں ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ اس وقت ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لئے اس طرح کے پلانٹس لگنے ضروری ہیں۔