رحمن ملک کا الطاف، قائم شاہ کے ارکان رابطہ کمیٹی کو فون، الٹی میٹم واپس لینے کی اپیل

رحمن ملک کا الطاف، قائم شاہ کے ارکان رابطہ کمیٹی کو فون، الٹی میٹم واپس لینے کی اپیل

لندن (نوائے وقت رپورٹ) پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمٰن ملک نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو فون کیا اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل پر ان سے تعزیت کی۔ ایم کیو ایم کے جاری بیان کے مطابق رحمان ملک نے کہا کہ کارکنوں کو جس بے رحمی سے قتل کیا گیا اس پر انہیں ذاتی طور پر بہت دکھ ہے اور وہ الطاف حسین، ایم کیو ایم اور کارکنوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے الطاف حسین کو یقین دلایا کہ حکومت سندھ قاتلوں کی گرفتاری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی۔ تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی جبکہ لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت سندھ کے علاوہ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ دریں اثناء صحافیوں سے گفتگو کرتے رحمن ملک نے کہا ان کی الطاف حسین سے بات چیت مثبت رہی امید ہے اچھی خبر ملے گی ایک سوال پر رحمان ملک نے کہا کہ طالبان نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو لڑانے کی کوشش کی انہوں نے کہا کہ جعلی وردیوں میں گھومنے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بدنام کر رہی ہیں انہوں نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی اور قتل و غارت سے شہر کے حالات آپریشن کی طرف جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں رحمان ملک نے وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ کے ہمراہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ملاقات کی جس میں ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کی لندن اور کراچی رابطہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں 72 گھنٹے کے الٹی میٹم کے حوالے سے غور کیا گیا۔ رات گئے تک اجلاس جاری تھا۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کو گذشتہ رات فون کرکے لاپتہ کارکنوں کے قتل پر اظہار افسوس اور کارکنوں کے لواحقین کیلئے معاوضوں اور ایک ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی بازیابی کیلئے قائم کمیٹی 15 روز میں رپورٹ جمع کرادیگی۔ مقتول کارکنوں کے ملزموں کو گرفتار اور لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کیلئے سندھ حکومت کوئی کسر نہ اٹھا چھوڑیگی۔