کراچی: مزید 11 افراد قتل، لیاری میں بم حملے، احتجاج، 3 ٹرالر نذر آتش

کراچی: مزید 11 افراد قتل، لیاری میں بم حملے، احتجاج، 3 ٹرالر نذر آتش

کراچی (وقائع نگار + آن لائن + نوائے وقت نیوز) کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری، مزید11 افراد جاںبحق ہو گئے، لیاری میں مشتعل افراد نے 3 ٹرالر نذر آتش کر دئیے۔ پھول پتی لین، ہنگورآباد اور رحیم آباد میں فائرنگ کے ساتھ راکٹ حملے بھی جاری رہے۔ فائرنگ سے ایک شخص جان سے گیا۔ گارڈن عثمان آباد میں بھی فائرنگ سے ایک شخص کی جان لے لی گئی۔ لی مارکیٹ اور سرجانی ٹاو¿ن سے دو نعشیں ملیں جبکہ ہائیکورٹ کے قریب بورڈ آف ریونیو کی بلڈنگ سے نائب قاصد خلیل کی نعش ملی، اورنگی ٹاو¿ن ڈبہ موڑ کے قریب بھی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا۔ پیرآباد پولیس کا مبینہ بھتہ خوروں سے مقابلہ ہوا جس میں دو مبینہ بھتہ خور مارے گئے اورنگی ٹاون ایم پی آر کالونی میں سینما کے قریب ملزمان نے کریکر حملہ کیا، سرچ آپریشن کے دوران 25 افراد گرفتار کر لئے گئے۔ ڈیفنس میں خیابان محافظ پر گاڑی میں سوار افراد ایک شخص کی لاش پھینک کر فرار ہو گئے۔ دوسری جانب لیاری کے رہائشیوں نے ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے باعث ماڑی پور روڈ پر ٹریفک معطل ہو گئی جس کے نتیجہ میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراﺅ کیا جبکہ 3 ٹرالروں کو آگ لگا دی، مظاہرین پولیس کی موجودگی میں گاڑیوں میں لوٹ مار کرتے رہے۔ اس دوران مزاحمت پر بس کنڈکٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ دریں اثنا لیاری میں بہار کالونی میں پولیس اورجرائم پیشہ عناصر کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، گولیاں لگنے سے ڈی ایس پی شکیل سمیت 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ اس دوران جرائم پیشہ عناصر نے دستی بموں سے بھی حملے کئے۔ گلبہار کے علاقے پیتل گلی میں مسلح افراد نے یاور عباس نقوی کو ہلاک کر دیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور دکانیں وغیرہ بند کر دی گئیں۔ دریں اثناءقاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کے چہرے کے بعد دونوں پا¶ں کی بھی سرجری کر دی گئی۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے ججز کو فول پروف سکیورٹی دئیے جانے کا وعدہ بھی پورا نہ ہو سکا۔ ڈاکٹروں نے ملاقاتیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
کراچی / جسٹس باقر