سندھ: جسقم کی قیادت پر بغاوت کا مقدمہ، دہشت گردی کی دفعات بھی شامل

سندھ: جسقم کی قیادت پر بغاوت کا مقدمہ، دہشت گردی کی دفعات بھی شامل

نوابشاہ (نیٹ نیوز) سندھ کی قومیت پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کی قیادت پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ قیادت پر ریاست مخالف تقاریر کرنے اور نعرے لگانے کا الزام ہے۔ نوابشاہ کے سکرنڈ تھانے میں مقدمہ سب انسپکٹر کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان قریشی، وائس چیئرمین نیاز کالانی، ساگر حنیف بڑدی، کیھر انصاری، بشیر خاصخیلی سمیت انیس افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان نے ”پاکستان نہ کھپے“ کے نعرے لگائے اور ریاست مخالف تقاریر کیں۔ اس کے علاوہ قومی شاہراہ کو زبردستی بند کرایا، ان کے مطابق مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے۔ دوسری جانب نوابشاہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ساغر حسین زیدی کی عدالت میں پولیس نے یہ مقدمہ پیش کیا۔ عدالت نے چودہ روز میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جئے سندھ قومی محاذ کے وائس چیئرمین نیاز کالانی کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد پرامن اور سندھ کی بقا کے لئے ہے، سندھ کے وسائل کی لوٹ مار کے خلاف پنجاب جانے والی گاڑیوں کو روکا گیا تھا جبکہ قومی شاہراہ کی ایک طرف سے ٹریفک معمول کے مطابق جاری تھی۔ عدم تشدد کی سیاست کے پیروکار ہیں، بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات دائر کرکے انہیں حقوق کی جنگ سے روکا نہیں جا سکتا اور ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
بغاوت کا مقدمہ