پاکستان سالانہ 67500 ایکڑ جنگلات سے محروم ہورہا ہے:امریکی اخبار

کراچی( نوائے وقت نیوز) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان میں تیزی سے جنگلات کے خاتمے پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ درختوں کی کٹائی میں اضافے سے پاکستان زیادہ تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں جیسے واقعات کا شکار ہورہا ہے۔بیکٹیریا ملے پانی اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں شدت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ موسم سرما سے پہلے حکومتی اعدادو شمار کے مطابق پاکستان سالانہ 167500ایکڑ جنگلات سے محروم ہورہا ہے۔قدرتی آفات اور تباہی سے بچانے کیلئے پاکستان کو 1.5ٹریلین سے 2ٹریلین درخت لگانے کی ضرورت ہے۔حکام کے مطابق پاکستان سالانہ دس کروڑ پودے لگاتا ہے مگر اس میں سے نصف دو سال کی مدت میں ختم ہوجاتے ہیں۔دسمبر میں پاکستان نے عالمی بینک سے 3.8 ملین ڈالر کی گرانٹ جنگلات کی کمی کی تحقیقت کیلئے حاصل کی ۔عالمی بینک کے اندازے کے مطابق پاکستان کی سرزمین صرف 2.1 فیصد جنگلات سے ڈھکی ہے اس کے مقابلے میں بھارت 23 فیصد جب کہ امریکہ 33 فیصد جنگلات رکھتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی 20فیصد آبادی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ غریب اور دیہی آبادی موسم سرما میں لکڑی پر انحصار کرتی ہے لیکن شدید توانائی کی قلت نے اہل ثروت کو لکڑی پر گزارہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔پاکستان کا شمار  ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جنگلات کی کمی ہے لیکن موجودہ صورتحال نے خطرناک رجحان کو جنم دیا ہے جس سے پاکستان جنگلات کھو رہا ہے۔