کراچی میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، ہوٹل پر بم حملہ، مالک جاں بحق

کراچی میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، ہوٹل پر بم حملہ، مالک جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر) کراچی میں اتوار کو فائرنگ کے واقعات میں نو عمر لڑکے سمیت تین افراد ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے۔ سچل کے علاقے عبد اللہ شاہ غازی گوٹھ کی کچی آباد میں پانی کے مسئلے پر پڑوسیوں کے درمیان جھگڑے میں فائرنگ کے نتیجے میں 12 سالہ علی خان ہلاک ہوگیا۔ ادھر ماری پور روڈ پر مچھر کالونی میں مسلح افراد نے 22 سالہ نوجوان کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جبکہ لیاری کے علاقے ہنگور آباد میں کچرا کنڈی سے ایک نوجوان کی لاش ملی جسے تشدد اور سر پر گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی عمر تقریباً20 سال تھی تاہم مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ دریں اثناءابو الحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاﺅن کے نزدیک نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 18 سالہ حیدر سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔ علاوہ ازیں منگھو پیر میں ناردرن بائی پاس پر بھتہ خوروں نے فائرنگ کرنے کے بعد ایک ہوٹل پر دستی بم پھینک دیا۔ بم پھٹنے سے ہوٹل مالک شدید زخمی ہو گیا جو بعدازاں ہسپتال جا کر دم توڑ گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اسے دو ہفتوں سے بھتہ دینے کے فون آ رہے تھے۔ علاوہ ازیں تاہ فیصل کالونی میں پولیس اہلکاروں کے قتل کے شبے میں دو افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی۔ تین سو سے زائد پولیس اہلکاروں کی مدد سے ناتھا خان گوٹھ کا محاصرہ کیا گیا۔ ادھر منگھو پیر کے علاقے کنواری کالونی سے سرچ آپریشن کے دوران 18 جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کر لیا گیا۔ ادھر دہشت گردی کے حملے کے پیش نظر سنٹرل جیل کراچی میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیئے گئے اور اندرونی و بیرونی حصوں میں رینجرز اور پولیس کے جوانوں کے علاوہ سپیشل کمانڈوز کو بھی تعینات کر دیا گیا جبکہ جیل کے اطراف کی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز اور شارپ شوٹرز بھی کھڑے کر دیئے گئے۔ جیل ذرائع کے مطابق سنٹرل جیل کراچی میں کالعدم جہادی تنظیموں کے قیدیوں کو چھڑانے کیلئے ان کے ساتھیوں کے حملے کا خدشہ ہے جس کی بنا پر حفاظتی انتظامات کو مزید بہتر بنایا گیا۔