جیل کے سنتری بادشاہ نے نذرانہ نہ دینے پر مجھے قانون کے درخت تلے کھڑا کردیا

جیل کے سنتری بادشاہ نے نذرانہ نہ دینے پر مجھے قانون کے درخت تلے کھڑا کردیا

کراچی (بی بی سی) دس دن پہلے میں اپنے ایک پرانے سکول فیلو کیلئے افطاری سے بھرا شاپنگ بیگ اور سگریٹ کے دوکارٹن لیکر جیل کے اندرونی آہنی صدر دروازے پر پہنچا۔ وہاں موجود سنتری بادشاہ نے کہا کہ پہلے جیلر صاحب کی اجازت لینی پڑیگی، پھر ساری چیزیں چیک ہوں گی۔ اس کیلئے تھوڑا صبر کرنا ہوگا کیونکہ چیکنگ پر مامور سپاہی ڈسپنسری گیا ہے۔ آپ فی الحال اس درخت کے نیچے کھڑے ہو جائیں، میں آپ کو خود بلالوں گا۔بی بی سی کے وسعت اللہ خان کی رپورٹ کے مطابق میں درخت تلے کھڑا ہوگیا۔ پانچ منٹ بعد ایک کالے شیشوں والی کار اور اس کے سات آٹھ منٹ بعد شفاف شیشوں والی ایک فور ویلر آئی۔ دونوں میں سے کھانے کے بھاری ٹفن اور بھرے ہوئے شاپنگ بیگ اسی سنتری کے حوالے ہوتے دیکھے جس نے مجھے قانون کے درخت تلے کھڑا کردیا تھا۔ سنتری نے دونوں گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے بھرپور مصافحہ کیا اور پھر یہ مصافحہ جیب میں ڈال لیا اور صدر دروازے میں موجود چھوٹا دروازہ کھول کے سامان اندر کھڑے کسی سپاہی کو تھما دیا۔پاکستان کے حالات کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ان کا کہنا ہے کہ چار روز پہلے میرے شو روم پر صبح ہی صبح ملازم کو کوئی موٹر سائیکل سوار ایک پرچہ تھما گیا۔ بال پوائنٹ سے لکھا تھا ’اس سال اقبال مارکیٹ کی دکانوں کے لیے فطرے کی فی کس رقم پانچ لاکھ روپے ہے۔ پرسوں شام تک انتظام کرلیں اور یہ نمبر نوٹ کرکے اس پر فون کریں تاکہ ادائیگی کا طریقہ بتا سکیں۔ سامنے والے شو روم کے مالک نے پچھلے ہفتے ایسے ہی ایک خط کو مذاق سمجھا تھا۔ اسی لیے آپ کو پرسوں ان کے قل میں شریک ہونا پڑا۔ اب آپکی مرضی کہ اپنے شو روم پر بیٹھنا پسند کریں گے یا اسکے سامنے ہی لیٹنا پسند کریں گے، تعاون کا شکریہ۔ عید مبارک۔‘میں نے ہمسایہ دکانداروں سے مشورہ کیا کہ کیا کروں؟ اخبار میں دیدوں، مقامی سیاسی تنظیموں کے دفتر جاو¿ں، بااثر افراد کے گھٹنے چھوو¿ں یا سٹیزن پولیس لیژاں کمیٹی والوں سے ملوں۔ سب نے پہلے تو مجھے اجتماعی نگاہوں سے ایسے دیکھا جیسے کوئی پھسپھسا لطیفہ سنا رہا ہوں۔ پھر ایک نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’سر جی کے سر پے ایک بوتل ٹھنڈا پانی ڈالو بھئی۔انہیں روزہ لگ رہا ہے‘۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔دو رات پہلے گھر جاتے ہوئے راستے میں فون آیا کہ جہانگیر صاحب کا بیٹا عاصم موٹر سائیکل کے حادثے میں ٹانگیں کچلوانے کے بعد ہسپتال تو پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن اسی وقت ڈاکٹر کسی مسئلے پر احتجاجاً کام چھوڑ کر ایمرجنسی اور او پی ڈی سے باہر نکل آئے۔ عاصم ڈیڑھ گھنٹے میں ہی مرگیا۔کل سہ پہر نبی بخش کا سوجھی ہوئی آواز میں فون آیا۔ اس کے بھائی حسین بخش کو کچھ لوگ بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی میں ڈال کے پھر لے گئے۔ ایک ماہ پہلے ہی وہ انیس ماہ غائب رہنے کے بعد گھر پہنچا تھا۔ تھانے والے کہہ رہے ہیں کہ درخواست دے دو۔ چھان بین کے بعد ایف آئی آر بھی کاٹ دیں گے اور ابھی کوئی سوا گھنٹہ پہلے میرے مرحوم والد کے ایک بچپنی دوست کھیم چند جی جانے کہاں سے پتہ ڈھونڈ ڈھانڈھ کے اپنے بڑے بیٹے اتم کے ساتھ پہنچ گئے۔ عید کے تیسرے دن وہ خاندان سمیت سب بیچ باچ کر انڈیا جارہے ہیں کیونکہ ان کی منجھلی بہو پانچ ماہ پہلے دفتر سے واپسی پر غائب ہوگئی۔ اور دو ہفتے پہلے ایک اجنبی کا فون آیا کہ کشوری نے اپنا نام زینب رکھ لیا ہے اور کسی الطاف آرائیں سے شادی کرکے وہ زینب الطاف آرائیں ہوگئی ہے۔ میں نے پوچھا کوئی عدالتی کارروائی؟ کھیم چند جی کھلکھلا کے ہنس پڑے اور پھر آنکھوں سے بھل بھل پانی بہنا شروع ہوگیا۔کھیم چند جی تو انڈیا پدھار رہے ہیں۔ مگر مسلمان کیا کریں؟شام، مصر، ایران یا سعودی عرب وغیرہ تو لیں گے نہیں۔۔۔ تو کیا شمالی وزیرستان ہجرت کی کوشش کریں؟ کم از کم وہاں کوئی منتخب حکومت تو نا ہوگی۔