کراچی: کار سوار فوزیہ صدیقی کے گھر کے باہر 12سالہ بچی چھوڑ گئے

کراچی (ریڈیو نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ + ایجنسیاں) کراچی میں نامعلوم کار سوار عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے گھر کے باہر 12 سالہ بچی کو چھوڑ گئے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کی بیٹی ہے‘ اطلاع ملتے ہی میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد‘ حساس اداروں کے اہلکار‘ نادرا کا عملہ اور دیگر اعلیٰ حکام فوزیہ صدیقی کے گھر پہنچ گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق بچی کے گلے میں ایک کارڈ ہے جس پر عافیہ صدیقی کا نام اور ان کے گھر کااےڈریس لکھا ہوا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ بچی کی شکل ڈاکٹر عافیہ سے ملتی ہے۔ حساس اداروں کے عہدیداروں اور نادرا نے بچی کے فنگر پرنٹ اور ڈی این اے ٹیسٹ کےلئے نمونے حاصل کر لئے، گلشن اقبال میں فوزیہ کے گھر کے دروازے بند اور غیر معمولی ہلچل تھی۔ مانیٹرنگ نیوز کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بچی امریکی قید میں موجود عافیہ صدیقی کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عافیہ صدیقی کی بیٹی مریم 2003ءسے لاپتہ ہے لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ عافیہ کی بہن فوزیہ کے گھر میں ایک12 سالہ بچی موجود ہے جو روانی سے انگلش بولتی ہے۔ فوزےہ صدےقی نے کہا ہے کہ بچی کے بارے مےں ےہ تاثر لےنا کہ ےہ ڈاکٹر عافےہ کی ہے قبل از وقت ہو گا ، اتنے دھوکے ہوئے ہےں کہ کسی بات پر ےقےن کرنے کو دل نہےں چاہتا، صورتحال واضح ہونے پر آج پےر کے روزمےڈےا کو حقائق سے آگاہ کےا جائےگا۔ صحافےوں سے بات چےت کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا ہم نے بچی کے متعلق فوری حکومت کو اطلاع دی جبکہ نادرا کے اہلکار بھی موقع پرپہنچ گئے انہوں نے بچی کے فنگرز پرنٹ لئے اور کمپےوٹر اسکےنگ بھی کی اور بعد ازاں وہ خاموشی سے سر جھکا کر چلے گئے۔ فنگرز پرنٹ کو مےچ ہونا ہوتا تو فوراً ہو جاتا ان کا خاموشی سے چلے جانا بہت سے خےالات کو جنم دےتا ہے۔ رحمن ملک نے کہا ہے کہ فوزیہ صدیقی کے گھر کے باہر پہنچائی جانے والی بچی افغانستان سے لائی گئی ہے۔ انہوں نے عافیہ صدیقی کی والدہ کو ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ بچی کے فنگر پرنٹس عافیہ صدیقی کی بیٹی سے نہیں ملتے، تحقیقات کی جا رہی ہےں، ڈی این اے ٹیسٹ سے تعین ہو سکے گا کہ وہ عافیہ کی بیٹی ہے یا نہیں۔ جی این آئی کے مطابق رحمن ملک نے فوزیہ صدیقی کو فون پر بتایا کہ بچی کے ٹیسٹ عافیہ صدیقی کی بیٹی مریم سے نہیں ملتے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر لائی جانے والی بچی کو دارالامان بھجوا دیا گیا۔