الطاف نے معافی مانگ لی‘ امید ہے آئندہ غلطی نہیں کرینگے‘ عسکری قیادت حکومت کا حصہ ہے : پرویز رشید

الطاف نے معافی مانگ لی‘ امید ہے آئندہ غلطی نہیں کرینگے‘ عسکری قیادت حکومت کا حصہ ہے : پرویز رشید

کراچی (آن لائن + نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ آئین کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر تنقید نہ کی جائے، آئین کی پاسداری تمام سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، الطاف حسین نے اپنی غلطی پر معافی مانگی ہے امید ہے آئندہ وہ ایسی غلطی نہیں دہرائیں گے، ملک کی عسکری قیادت حکومت کا حصہ ہے اور ملکی پالیسیاں بناتے وقت عسکری قیادت سے بھی مشاورت اور معلومات لی جاتی ہیں، وزیراعظم نے کراچی میں امن قائم کرنے کا عہد کر رکھا ہے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک پہنچائیں گے، عمران خان پاکستان کو ہر وقت لڑانے کی کوشش کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور فوج کو آپس میں لڑادیا جائے، پاکستان کے نوجوانوں کے لئے علم کے راستے کھولنا چاہتے ہیں۔ وہ اتوار کو آرٹس کونسل میں” ادب اور اہل قلم کا پرامن معاشرے کے لئے کردار“ پر تین روزہ کانفرنس سے خطاب کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا اجراءاپنے وقت پر ہوگا اور ماضی کے مقابلے میں این ایف سی ایوارڈ سے زیادہ حصہ صوبوں کو ملے گا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کو کسی نہ کسی طرح لڑا دیا جائے کبھی امریکہ اور کبھی سعودی عرب سے لڑانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی چین سے لڑانے کے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں اور اگر یہ نہ ہو سکے تو وہ پارلیمنٹ اور فوج کو الجھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق عمران خان کی گفتگو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے عمران خان نے اس گفتگو میں جو بات کی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے لیکن آزادی قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ نہ بنانے سے مشروط ہے۔ ہم سب کو آئین کی پاسداری کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر حکومت اور عسکری قیادت ایک ہے یہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے ملکی پالیسیاں بناتے وقت عسکری قیادت سے بھی مشاورت اور معلومات لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں گذشتہ20سال سے قتل و غارت گری کا کھیل جاری ہے یہاں کے حالات بہتر بنانے کے بارے میں کسی نے کیوں نہیں سوچا، وزیر اعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف اور امن قائم کرنے کے لئے سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جس کے بعد آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن مشاورت سے شروع کیا گیا انہوں نے کراچی میں امن قائم کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں چار آمریتیں آئیں اور چاروں کا مزاج مختلف تھا۔ قائداعظم کی تعلیمات سے دور آمریتوں نے کبھی قائداعظم کو شیروانی پہنائی اور کبھی پینٹ شرٹ۔ پختون سے پشتو، پنجابی سے پنجابی اور سندھی سے زبان اور ثقافت چھین لی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سوچ پر پہرے لگانے اور اظہار رائے پر پابندی لگانے کا نام آمریت ہے۔ جس ملک میں چار آمریتیں آئی ہوں وہاں ادیب اور دانشور کہاں سے آئیں گے۔ لوگوں کا کتاب سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ بچوں کو ڈانٹنے کے بجائے شفقت سے سمجھانا ہوگا۔ بدقسمتی سے آمریتوں نے دانش اور ریاست کے درمیان فاصلہ پیدا کردیا ہے۔ ریاست اور ادیب ساتھ ہوں گے تو دانشور رہنمائی کرتے رہیں گے۔
پرویز رشید