کراچی: پولیس تشدد سے متحدہ کارکن ہلاک، آج کل سوگ کا اعلان، پرتشدد واقعات، 4 قتل

کراچی: پولیس تشدد سے متحدہ کارکن ہلاک، آج کل سوگ کا اعلان، پرتشدد واقعات، 4 قتل

کراچی (کرائم رپورٹر) کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کا ایک اور کارکن پولیس تشدد کی بھینٹ چڑھ گیا، کارکن کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے بدھ اور جمعرات کو دو روزہ پرامن سوگ کا اعلان کر دیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس تشدد سے ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ فیروز شاہ کو تحقیقاتی افسر مقرر کرکے رپورٹ طلب کرلی۔ ہلاکت کے بعد مقتول وسیم کے ورثاءنے جناح ہسپتال میں پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کرنے کے علاوہ توڑ پھوڑ بھی کی، جبکہ بلدیہ ٹاﺅن میں بھی احتجاج اور ہنگامہ آرائی ہوئی۔ متحدہ قومی موومنٹ بلدیہ ٹاﺅن سیکٹر کے کارکن محمد وسیم جو واٹر بورڈ کا ملازم اور تین بچوں کا باپ تھا کو ایک روز قبل بلدیہ ٹاﺅن سے اس کے دو بھائیوں عابد اور نعیم سمیت پولیس نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد عزیز بھٹی تھانے میں مبینہ پولیس تشدد سے اس کی موت واقع ہوئی اور نعش کو جناح ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اطلاع ملنے پر وسیم کے ورثاءاور لواحقین بھی پہنچے اور شدید اشتعال کے عالم میں نہ صرف انہوں نے پولیس اہلکاروں کو زدو کوب کیا بلکہ جناح اسپتال کے مردہ خانے کے باہور توڑ پھوڑ بھی کی، انہوں نے کہا کہ وسیم بے گناہ تھا اور اسے پولیس نے تشدد کر کے قتل کیا۔ واقعے کا علم ہونے پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اس کا سخت نوٹس لیا اور آئی جی پولیس سندھ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کی جبکہ آئی جی پولیس سندھ غلام حیدر جمالی نے عزیز بھٹی تھانے کے انچارج کو فوری طور پر معطل کر کے تنزلی کے احکامات جاری کر دے اور تشدد میں ملوث تین پولیس اہلکاروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ آئی جی نے ڈی آئی جی ویسٹ فیروز شاہ کو تحقیقاتی افسر مقرر کرتے ہوئے مقتول وسیم کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی دوسری طرف جناح ہسپتال میں مجسٹریٹ کی نگرانی میں پولیس سرجن ڈاکٹر جلیل قادر سمیت ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے مقتول وسیم کا پوسٹ مارٹم کیا اور جسم پر تشدد کے نشانات کی تصدیق کرتے ہوئے سر پر گہری چوٹ کو موت کی وجہ قرار دیا۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کارکن وسیم کی پولیس تشدد سے ہلاکت پر بدھ اور جمعرات کو دو روزہ پرامن سوگ کا اعلان کیا گیا اور اس دوران تاجروں اور دوکانداروں سے دکانیں اور کاروبار بند رکھنے اور ٹرانسپورٹرز سے گاڑیاں سڑکوں پر نہ لانے کی اپیل کی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن وسیم کی ہلاکت پر ڈی ایس پی نیو ٹاﺅن ناصر لودھی کو بھی معطل کر کے پولیس ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ عزیزبھٹی تھانے کے انچارج سب انسپکٹر مقصود رضا کو معطل کرتے ہوئے انہیں اے ایس آئی بنا دیا تشدد کے الزام میں جن دیگر چار پولیس اہلکاروں سب انسپکٹر ضمیر، ہیڈ کانسٹیبل خیرمحمد، کانسٹیبل سکندر اور کانسٹیبل اسدراﺅ کو حراست میں لے لیا گیا ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیاگیا ہے۔ دوسری طرف شہر کے مختلف علاقوں میں بدھ کو فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں خاتون اور بچے سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے خاتون اور نوجوان کی تشدد زدہ نعشیں سپرہائی وے پر ملیں پولیس کے مطابق دونوں کو اغوا کے بعد تشدد سے ہلاک کرکے وہاں پھینکا گیا تھا مرد کی شناخت اس کے پاس سے ملنے والی پرچی کے ذریعے دین محمدڈومکی کے نام سے ہوئی جو بلوچستان کا رہنے والا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پرچی پر قاتل نے اپنا نام ظفراللہ لکھا اور تحریر کیا کہ دونوں کو غیرت کی وجہ سے قتل کیا۔ ادھر ملیر کے علاقے محبت نگر میں نامعلوم افراد نے 28سالہ نوجوان کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جبکہ سچل کے علاقے میں صفورا گوٹھ میں نامعلوم افراد نے 7سالہ بچے کو قتل کرنے کے بعد اس کی نعش جلاڈالی پولیس کے مطابق بچے اور نوجوان کی شناخت نہیں ہوسکی۔ علاوہ ازیں رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ایم کیوایم بلدیہ ٹاﺅن سیکٹر یونٹ 117کے کارکن وسیم دہلوی کے ماورائے عدالت کے ذریعے ایم کیوایم کے کارکنوں کو دوبارہ لاپتہ کرنے اور ماورائے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، ایم کیوایم کے 92کارکنان ایسے ہیں جنہیں کراچی آپریشن میں حصہ لینے والی مختلف ایجنسیوں نے گرفتا رکیا اور وہ آج تک وہ لاپتہ ہیں، آپریشن کے دوران ہمارے 40کارکنان ماورائے عدالت قتل کئے جا چکے۔ انہوں نے صدر، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو بھی دیکھیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے، عدلیہ کی کراچی کے بچوں کے معاملے میں خاموشی بڑی سوالیہ بات ہے، ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کے واقعات پر فوری جوڈیشل کمشن بنایاجائے۔
کارکن ہلاک/سوگ