سندھ پولیس کے افسران نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے احاطے میں ڈی ایس پی مقصود اوران کے ڈرائیورکوتشدد کا نشانہ بنایا

خبریں ماخذ  |  سٹی رپورٹر
سندھ پولیس کے افسران نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے احاطے میں ڈی ایس پی مقصود اوران کے ڈرائیورکوتشدد کا نشانہ بنایا


سندھ پولیس کے افسران کا جھگڑا دفترسے نکل کرسڑکوں تک آگیا، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں محکمہ پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پرموشنز کے خلاف کیس کی سماعت کے بعد جیسے پولیس افسران عدالت سے باہرنکلے توسپریم کورٹ کے باہردرخواست گزارڈی ایس پی مقصود کو پولیس افسران اوران کے گارڈز نے گھیرے میں لے لیا۔
تلخ کلامی کے بعد نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہتھیارنکل آئے
جھگڑے کے بعد اعلیٰ پولیس افسران نے معاملہ رفع دفع کرادیا، پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی مقصود زہنی مریض ہیں
اس سے قبل جسٹس انورظہیرجمالی، جسٹس امیرہانی مسلم اورجسٹس اطہرسعید پرمشتمل فل بنچ نے محکمہ پولیس میں خلاف ضابطہ ترقیوں کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ توہین عدالت کے نوٹس پر چیف سیکریٹری سندھ راجہ غلام عباس، سیکریٹری داخلہ یونس ڈھاگہ اور ایڈیشنل آئی جی فلک خورشید عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد آپ کی ذمہ داری ہے ایسا ابھی تک کیوں نہیں کیا گیا۔ انسپکٹر عبدالجبار قائم خانی ،سب انسپکٹر شہباز مغل اورانسپکٹر حامد بھرگڑی کی خلاف ضابطہ ترقی پرچیف سیکریٹری سندھ کو فوری طور پرتینوں کی تنزلی کے احکامات جاری کرکے عدالت میں نوٹیفکشن پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے آئی بی کے ڈائریکٹر عبدالوہاب شیخ کی پولیس میں ڈیپوٹیشن منسوخ کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اپنے محکمے میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی اور چیف سیکرٹری کو خلاف ضابطہ ترقی پانے والے چھپن افسران کے کیسزکا جائزہ لے کر رپورٹ جمعرات تک عدالت میں خود پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔