سسی پنوں سے منسوب علاقے بھنبھور میں زیرآب شہر دریافت‘ آبادی کے نشانات موجود

 سسی پنوں سے منسوب علاقے بھنبھور میں زیرآب شہر دریافت‘ آبادی کے نشانات موجود

کراچی (بی بی سی) بھنبھور کے آثار قدیمہ سے ایک زیر آب شہر کی دریافت ہوئی ہے جس کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ یہاں پر پانچویں صدی عیسوی سے نویں صدی عیسوی تک کی آبادی کے نشانات موجود ہیں۔ کراچی سے 60 کلو میٹر دور واقع بھنبھور کے آثار قدیمہ کی کھدائی کا حالیہ سلسلے کا تیسرا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے، مقامی اور بین الاقوامی محققین اس مفروضے پر بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ بھنبھور ایک ایسا ساحلی شہر تھا جس کے دیگر شہروں سے تجارتی تعلقات تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ زیر آب شہر سے پکی گلیاں اور کارخانے بھی برآمد ہوئے ہیں اور جو سٹرکچر ملا ہے اس میں لکڑی کے پول پر چھت بنائی ہوئی ہے جس میں کاریگر بیٹھ کر کام کرتے تھے۔ موجودہ تحقیق میں شامل آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کہتے ہیں کہ عربوں کی آمد کے بعد یہاں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں جانوروں کی ہڈیوں کی صنعت کافی مصروف نظر آتی ہے جس میں بڑے جانوروں کی ہڈیوں سے چوڑیاں، کنگیاں اور دیگر زیورات بنائے جاتے تھے اس کے علاوہ زرعی آلات بھی بنتے تھے لیکن انھیں ابھی تک نامکمل اور ٹوٹی ہوئی مصنوعات ملی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تیار منصوعات کو جہاں جانا ہوتا تھا وہاں چلی گئی ہوں گی۔ بھنبھور کی ایک شناخت رومانوی داستان سسی پنوں بھی ہے۔ اس قدیم شہر کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ سمندر کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ یہ شہر بنتا اور بگڑتا رہا اور اسی کے ساتھ یہاں کے لوگوں کا کاروبار بھی جڑا رہا ہے۔ آرکیالوجسٹ ڈاکٹر عاصمہ ابراہیم کا کہنا ہے کہ اب تک جو کھدائی ہوئی ہے اس سے تو یہ تصدیق نہیں ہو رہی ہے کہ آیا دیبل اور بھنبھور ایک ہی تھا اور محمد بن قاسم یہاں آیا تھا۔