جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ سہیل احمد مشہودی نے سانحہ بلدیہ فیکٹری میں تفتیشی افسرکی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کو بارہ نومبر کو طلب کرلیا۔

خبریں ماخذ  |  سٹی رپورٹر
جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ سہیل احمد مشہودی نے سانحہ بلدیہ فیکٹری میں تفتیشی افسرکی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کو بارہ نومبر کو طلب کرلیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ ویسٹ سہیل احمد مشہودی کی عدالت میں تفیشی افسر نے چالان پیش کرنے کے لیے مزیدچودہ دن کا وقت مانگا۔ جس پرعدالت نے استفسار کیا کہ اب تک کیا کارروائی کی گئی جس پر تفتیشی افسرجہانزیب کا کہناتھا کہ چارچشم دیدگواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے، جس میں انہوں نے بتایا کہ مالکان نے فیکڑی میں تالے لگائے تھے۔
پولیس نے فیکٹری کے تالے اور دروازوں کو نکال کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے،محکمہ لیبر سے فیکٹری کا نقشہ بھی حاصل کرلیا جس میں علی انٹرپرائزز کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ عدالت نے استفسارکیاکہ ایف آئی ار میں دیگر محکموں کے نام بھی شامل ہیں انکے خلاف کیا کارروائی کی گئی، جس پر تفتیشی افسر کوئی جواب نہ دے سکا۔ عدالت نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اب تک حتمی چالان پیش نہیں کیا گیا، مہلت پر مہلت مانگ رہے ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ معاملہ بہت سنگین ہے ڈھائی سو سے زائد افراد قتل ہوئے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیش سے اندازہ ہورہا ہے کہ معاملہ کتنا سنجیدہ ہے۔ عدالت نے مقدمے کا چالان سات روز میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔
جبکہ عدالت میں فیکٹری مالکان کی جانب سے پیش ہونے والی تین درخواستوں پر سرکاری وکیل کو پانچ نومبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کا حکم دیا گیا۔عدالت میں ملزمان ارشد بھائیلا، شاہد بھائیلا، جنرل مینجرمنصور اور چوکیدار علی محمد اور محمد فضل کو جیل سے لایا گیا تھا جبکہ عبدالعزیز بھائیلا وہیل چیئر پر عدالت میں پیش ہوئے تھے