توہین عدالت کیس، پولیس پر فرد جرم عائد کرکے کٹہرے میں بلائینگے: سندھ ہائیکورٹ

توہین عدالت کیس، پولیس پر فرد جرم عائد کرکے کٹہرے میں بلائینگے: سندھ ہائیکورٹ

کراچی (آن لائن) سندھ ہائیکورٹ میں توہین عدالت اور صحافیوں پر تشدد کے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ جج کی توہین معاف کی جاسکتی ہے، ادارے کی نہیں، عدالت سب کی ہے یہ آپ کی بھی توہین ہے، ہم نے 19 مئی کے گھیراؤ کا نوٹس لیا ، 23 مئی کو عدلیہ پر حملہ کر کے جواب دیا گیا،چیف سیکرٹری پرواضح کردیاکہ وزیراعلی نے جو ایکشن لیا وہ محض ایک آئی واش ہے، سپیشل برانچ کے افسر نے کہا اسکا پولیس پرکوئی اختیار نہیں، پولیس کا سکیورٹی پلان آپریشن 007 کا پلان لگتا ہے،ان پر فرد جرم عائد کریں گے ، کٹہرے میں بلائیں گے ، انٹیلی جنس افسران تو سادہ لباس میں ہوتے ہیں لیکن آپریشن کے افسران کا سادہ لباس میں ہونا سمجھ سے بالا تر ہے ،عدالت نے سماعت 4جون تک ملتوی کردی ہے ۔پیر کو توہین عدالت اور صحافیوں پر تشدد کے متعلق درخواست کی سماعت جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔دوران سماعت رپورٹ چیف سیکرٹری سندھ نے جمع کروائی، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن نے اپنی رپورٹ میں عدالت کو بتایا کہ حکومت نے عدالتی گھیراؤ اور صحافیوں پر تشدد کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ انسپکیشن ٹیم کے سربراہ سبحان میمن کی سربراہی میں واقعہ کے متعلق تفتیش کے لیے کمیٹی بنادی ہے، ایس ایس پی ساؤتھ چودھری اسد، ایس ایس یو کے کمانڈر میجر ریٹائرڈ سلیم کو معطل کردیا گیا ہے، ایس پی صدر ذیشان بٹ اور ایس پی لیاقت آباد طاہر نورانی کو بھی عہدوں سے ہٹادیا گیا ہے۔جس پر عدالت نے کہا کہ حکومتی کمیٹی توہین عدالت پر فیصلہ نہیں کرسکتی ہے ، جج بھی توہین عدالت کرے تو اسے بھی فارغ کردیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر پولیس افسران کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت سے گڑا گڑا کر معافیاں مانگتے رہے اور کہا وہ سینئر ترین وکیل ہیں۔ ہاتھ جوڑ کر معافی کی درخواست کرتے ہیں ، پولیس افسران سے غلطی ہوئی ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا ہم میڈیا سے بھی تحریری طور پر معافی مانگ لیں گے۔ میڈیا اور ہائی کورٹ کے علاوہ ذوالفقار مرزا سے بھی معافی مانگنے کو تیار ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ہم آپ کی معافی پر غور کریں گے اگر کسی جج کی توہین کی جاتی تو ہم معاف کر دیتے لیکن ادارے کی توہین کی گئی ہے۔ ان پر فرد جرم عائد کریں گے ، کٹہرے میں بلائیں گے، سماعت کے دوران جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ یہ سب گریڈ 21 کے افسر ہیں ، کیا کریں گے یہ آئی واش ہے حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ بعدازاں عدالت نے سماعت 4 جون تک ملتوی کردی ہے۔