کراچی: ریسٹورنٹ پر بم حملہ، پرتشدد واقعات، 9 افراد جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) کراچی کے علاقے طارق روڈ پر گذشتہ شام نامعلوم افراد نے ایک ریسٹورنٹ پر دستی بم سے حملہ کر دیا۔ دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ مرنیوالے شخص کی شناخت خادم کے نام سے ہوئی۔ دو زخمیوں کو امدادی کارکنوں نے ہسپتال داخل کرا دیا۔ دستی بم پھٹنے سے علاقہ لرز اٹھا جبکہ قریبی دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے، ریسٹورنٹ کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کا خیال ہے کہ دستی بم سے حملہ بھتہ خوروں نے رقم نہ ملنے پر کیا۔ دریں اثناء بلدیہ ٹائون سے رات گئے ایک گھر سے ملنے والی پولیس اہلکار محمد رمضان، اسکی بیوی نادیہ اور دو بچوں کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے بعد انکے ورثاء کے حوالے کر دی گئی جنہیں تدفین کیلئے آبائی شہر لاڑکانہ لے گئے۔ مقتول کے بھائی عامر نے بتایا کہ رمضان نے نادیہ سے 2010ء میں کورٹ میرج کی تھی جس پر اسکے سالے اسے دھمکیاں دیتے رہے تاہم 3 روز پہلے وہ گھر پر آ کر رہ رہے تھے اور واردات کے بعد سے غائب ہیں۔ پولیس نے انکی تلاش شروع کر دی۔ محمد رمضان بلاول ہائوس میں تعینات اور ریپڈ ریسپانس فورس کا اہلکار تھا۔ قتل ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل لگتا ہے۔ ادھر نیو کراچی کے علاقے دومنٹ چورنگی پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے کار پر فائرنگ کر دی جس سے اس میں سوار 2 افراد حفیظ الدین اور عبدالغفار جاں بحق ہو گئے۔ قبل ازیں پیپلز چورنگی پر نامعلوم افراد نے محمد سلیمان نامی شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ بریگیڈ تھانے کی حدود میں محمد بخش نے اپنی بیوی 40 سالہ  مینو خاتون کو تیزدھار آلے سے قتل کر دیا۔ اورنگی ٹائون نمبر ایک سوات چوک کے قریب جھگڑے کے دوران 15 سالہ گل زمان کو سر پر پتھر مار کر قتل کر دیا گیا۔ دریں اثناء اسلامیہ کالج کے قریب فائرنگ سے 26 سالہ سلمان دم توڑ گیا۔  علاوہ ازیں بنارس کے قریب ایک ہوٹل پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جس کی شناخت نہ ہو سکی۔ شاہراہ فیصل ڈرگ روڈ پر ریلوے سٹیشن کے قریب پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو مارا گیا، دوسرے کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔