زرداری کا پیپلز پارٹی کے امور براہ راست اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ

کراچی (سالک مجید) سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کا خطرہ محسوس کرتے ہی سابق صدر آصف علی زرداری نے سیاسی رابطے تیز کرنے اور پارٹی امور براہ راست اپنے ہاتھ میںرکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آصف علی زرداری کے قریبی ذرائع نے نوائے وقت کو بتایا کہ آصف علی زرداری نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کیلئے پوشیدہ قوتوں کے سرگرم ہونے، سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ اہم سیاسی رہنما¶ں کے رابطوں اور ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے اندر بعض ارکان اور رہنماﺅں کی ناراضگی کا فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر مشرف کیلئے لفظ بلا استعمال کرنا بڑی فورس کا مقابلہ کرنے کا اعلان سوچا سمجھا اندازِ تخاطب تھا۔ آصف زرداری نے پارٹی کے فیصلوں اور صوبائی حکومت کے امور بھی براہ راست اپنے ہاتھ میں رکھنے اور بلاول کو فرنٹ سیٹ سے بیک سیٹ پر لے جانے کا فیصلہ بھی قریبی رفقاءسے صلاح مشورے کی روشنی میں کیا۔ زرداری قبیلے کا سردار بننے کا فیصلہ بھی مخصوص حلقوں کو خاص پیغام دینے کیلئے کیا۔ بلاول کا ٹویٹر ”جو آمر کا یار ہے غدار ہے“ وہ بھی اسی پس منظر میں سامنے آیا۔ امین فہیم کا یہ کہنا کہ مشرف کی ایسی پوزیشن نہیں کہ وہ سندھ حکومت گراسکیں، سیاسی صورتحال کا پتہ دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ حکومت گرانے کے لئے اپوزیشن لیڈر شہریار مہر کو متحرک کیا گیا ہے۔ وہ پرویز مشرف سمیت اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں اور رابطے کررہے ہیں۔ سندھ دسمبر میں 168 کے ایوان میں حکومت گرانے یا تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے اپوزیشن کو 85 ووٹ درکار ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 92 ہے۔ ایم کیو ایم کے 50، فنکشنل لیگ کے 11، مسلم لیگ (ن) کے 10 اور پی ٹی آئی کے 4 ارکان ہیں۔
 زرداری، فیصلہ