کراچی میں حلقہ بندیوں پر مشاورت ‘ متحدہ کی مخالفت ‘ 6 جماعتوں کی حمایت

کراچی میں حلقہ بندیوں پر مشاورت ‘ متحدہ کی مخالفت ‘ 6 جماعتوں کی حمایت

کراچی (نوائے وقت نیوز/ ایجنسیاں) الیکشن کمشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے طویل مشاورت کی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت 6 سیاسی جماعتوں نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور ووٹروں کی دوبارہ تصدیق سے متعلق الیکشن کمشن کے اقدامات کی حمایت کر دی جبکہ ایم کیو ایم نے مخالفت کرتے ہوئے عدالتی احکامات کی کاپی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے بعض جماعتوں نے حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا کام بھی فوج سے کرانے، سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں سے کراچی کے حالات کی بہتری میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) نے صوبائی الیکشن کمشنر سندھ سونو خان بلوچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے وفد نے سلیم ضیاءکی قیادت میں سیکرٹری الیکشن کمشن سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سلیم ضیاءنے کہا کہ ہمیں سندھ کے الیکشن کمشنر پر اعتماد نہیں۔ ہمیں چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمشن پر اعتماد ہے۔ جب تک سونو خان بلوچ صوبائی الیکشن کمشنر ہیں نہ تو ووٹر لسٹیں منصفانہ بن سکتی ہیں نہ حلقہ بندی صحیح ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں تاج حیدر، نجمی عالم ، لعل بخش بھٹو شامل تھے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما تاج حیدر کا کہنا تھا کہ پہلے کی جانے والی حلقہ بندیاں لسانی بنیادوں پر کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں الیکشن کمشن سندھ نے نوشہرو فیروز میں نئی حلقہ بندی کا حکم دیدیا ہے۔ الیکشن کمشن نے مرید علی شاہ کی درخواست پر حکم جاری کیا ہے۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ صرف کراچی میں حلقہ بندیاں کرانے کا حکم غیرجمہوری ہے۔ کراچی سے زیادہ خراب صورتحال بلوچستان اور خیبر پی کے کی ہے۔ جمعہ کو سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے صوبائی الیکشن کمشن کے دفتر میں سندھ کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان سے ملاقاتیں کیں۔ ایم کیو ایم کے وفد نے موقف اختیار کیا کہ عام انتخاب سے قبل حلقہ بندیاں پورے ملک میں کی جانی چاہئیں اور اس حوالے سے مردم شماری صرف ضروری نہیں بلکہ آئینی تقاضا ہے۔ ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا عمل بھی صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ہونا چاہئے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ہفتے میں نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اپنی تجاویز الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں گی، الیکشن کمشن عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے گا اور اس کے بغیر آگے نہیں بڑھا جائے گا۔ کراچی میں حلقہ بندیاں عدالتی حکم کے مطابق کی جارہی ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں سے کراچی کی صورتحال بہتر کرنے میں مدد ملے گی امید ہے ایم کیو ایم بھی ہمارے ساتھ بیٹھے گی۔ نئی حلقہ بندیوں کیلئے سندھ حکومت نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، نئی حلقہ بندیوں کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ ہم نئی حلقہ بندیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ پہلے حلقہ بندیاں لسانی بنیادوں پر کی گئی تھیں اور ہم نے غلطیوںکی نشاندہی کی ہے۔ ازسرنو حلقہ بندیاں لسانی بنیادوں پر نہیں ہونی چاہئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سلیم ضیاء نے کہا کہ ہم نے واضح کہہ دیا ہے کہ جب تک سونو خان بلوچ صوبائی الیکشن کمشنر ہیں نہ تو ووٹر لسٹیں منصفانہ بن سکتی ہیں نہ حلقہ بندی صحیح ہوسکتی ہے۔ سلیم ضیا نے کہا کہ ایک ہفتے میں دوسری سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرکے اپنی تجاویز الیکشن کمشن میں جمع کرائیں گے۔ جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی نے نئی حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تصدیق کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صاف شفاف انتخابات پہلا قدم ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے رہنما امتیاز شیخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ سارا کام میرٹ پر ہونا چاہئے۔ ایم کیو ایم کے رضا ہارون نے کہا کہ سیکرٹری الیکشن کمشن کے پاس عدالت کے اس حکم کی کاپی ہی نہیں تھی جس کی بنیاد پر سارا عمل کیا جا رہا ہے۔ اسلئے ہم نے واضح کیا ہے کہ جب تک کورٹ آرڈر نہ ہو رائے دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جماعت اسلامی کے محمد حسین محنتی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حلقہ بندیاں بدنیتی پر مبنی ہیں، فوج کی نگرانی کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔