پاکستان بجٹ خسارے پر فوری قابو پائے ورنہ ملکی حالات مزید خراب ہو جائینگے: آئی ایم ایف

پاکستان بجٹ خسارے پر فوری قابو پائے ورنہ ملکی حالات مزید خراب ہو جائینگے: آئی ایم ایف

کراچی (این این آئی) آئی ایم ایف نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ معاشی استحکام کیلئے بجٹ خسارے پر فوری طور پر قابو پانا ہو گا ورنہ ملکی حالات مزید خراب ہو جائیں گے، آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور شرح نمو انتہائی کم ہے۔ قرضوں کی واپسی اور ترسیلات میں کمی کے باعث غیرملکی کرنسی کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی استحکام کیلئے بجٹ خسارے پر قابو پانا ہو گا۔ پاکستان میں مسلسل تیسرے سال سیلاب سے ملک میں لاکھوں افراد بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ملکی معاشی حالات کی وجہ سے ان سیلاب زدگان کی امداد میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حالات میں بہتری کے لئے پاکستان کو آمدن اور اخراجات کے حوالے سے جامع اصلاحات کرنی ہوں گی۔ حکومت کو آمدن میں اضافے کے لئے ترمیم شدہ سیلز ٹیکس متعارف کرانا ہو گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق غیر منافع بخش حکومتی ادارے ملک کو شدید معاشی بحران سے دوچار کر رہے ہیں۔ ان اداروں کی فوری طور پر تنظیم نو یا نجکاری ہونی چاہئے۔آن لائن کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کے لئے اپنا بہت زیادہ بجٹ خسارہ کم کرے۔ پاکستان کی پیداوار انتہائی کمزور ہے، افراط زر بہت زیادہ ہے تجارتی توازن غلط سمت میں جارہا ہے۔ پاکستان کے بارے میں ایگزیکٹو بورڈ کی بحث و تمحیص کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال غیر یقینی عالمی ماحول اور مشکل ملکی صورتحال کے علاوہ ناگہانی آفات کے ناگوار اثرات کی وجہ سے اور بھی گھمبیر ہے۔ پاکستان مسلسل تین سال تک شدید سیلاب کی لپیٹ میں آیا ہے جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے، اقتصادی پیداوار کو نقصان پہنچا ہے۔ کمزور مالیاتی آمدن اور قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے مرکزی بنک کے محفوظ ذخائر میں کمی واقع ہوئی جو اکتوبر میں کم ہو کر دس ارب ڈالر ہو گئے جو مناسب سطح سے کم ہیں۔ ڈائریکٹروں نے اس بات پر زوردیا کہ بہت زیادہ مالیاتی خسارے کو کم کرنا میکرو اکنامک اور بیرونی استحکام کی بحالی کے لئے ضروری ہے۔ گرانٹس کو چھوڑ کر خسارہ گزشتہ سال مجموعی ملکی پیداوار کے8.5فیصد تک پہنچ گیا جو چار فیصد کے اصل ہدف سے کافی زیادہ ہے۔ 2012-13 کے مالیاتی سال میں جو یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے، آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا تھا کہ خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کے 6.4فیصد تک گھٹ جائے گا کیونکہ پیداواری شرح گزشتہ سال کی سالانہ شرح3.2فیصد کے مقابلے میں نصف پوائنٹ کم ہو گئی تھی۔ آئی ایم ایف کے ڈائریکٹروں نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کم ٹیکسوں کا دائرہ وسیع کرنے اور رعایتی نرخوں میں کمی کیلئے مختصر المیعاد کوششیں شروع کریں۔ پاکستان کے لئے ستمبر تک آئی ایم ایف کا 10.7بلین ڈالر کا قرضہ واجب الادا تھا مگر اس نے اس میں سے صرف ایک تہائی حاصل کیا ہے، حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ نیا قرضہ نہیں لے گی۔