غیر جانبدارانہ فیصلوں سے عوام کا اعتماد بڑھا‘ عدلیہ چیلنجز کا سامنا کرنے کو تیار ہے: چیف جسٹس

غیر جانبدارانہ فیصلوں سے عوام کا اعتماد بڑھا‘ عدلیہ چیلنجز کا سامنا کرنے کو تیار ہے: چیف جسٹس

کراچی (سالک مجید/ وقائع نگار/ نوائے وقت رپورٹ) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ عدلیہ کی اب تک کی کامیابیاں قانون اور عدالتی پالیسی فریم ورک کے اندر رہ کرکئے گئے فیصلوں کی بدولت ہیں اور عدلیہ کے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ فیصلوں اور انصاف کی تیز رفتار فراہمی کے باعث عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھا ہے، عوام کی توقعات کے باعث عدلیہ کو مزید چیلنجوں کا سامنا ہے، عوام کی نظروں میں عدلیہ کے احترام اور وقار میں اضافے کی وجہ ججوں کی کمٹمنٹ‘ سخت محنت اور دستیاب وسائل کا بہترین استعمال ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں جوڈیشل افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کو متعارف کراتے ہوئے ساڑھے تین سال کا عرصہ ہوگیا ہے۔ عدلیہ ایک غیر جانبدار ادارے کی حیثیت سے تنازعات کو حل کرے اور تیز رفتار اور سستے انصاف کی فراہمی ممکن ہو‘ ڈسٹرکٹ ججوں نے بڑی محنت سے کام کیا ہے لیکن سندھ میں پرانے مقدمات ابھی بھی موجود ہیں لیکن ڈسٹرکٹ عدالتوں میں ان مقدمات کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے ججوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ مقدمات جلد نمٹائے جاسکتے ہیں۔ اوسطاً ایک جج کے حصے میں 493 مقدمات آتے ہیں جن کو جلد نمٹایا جاسکتا ہے یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے لہٰذا ججوں کے لئے ان مقاصد اور اہداف کا حصول اس وقت آئیڈیل نظر آتا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی رہنمائی سے ڈسٹرکٹ کورٹس کی کارکردگی کو سراہا‘ کراچی اور ملیر ڈسٹرکٹ کے ڈسٹرکٹ و سیشن ججز سے ملاقات کا اہتمام سندھ ہائی کورٹ نے کیا تھا۔ اس موقع پر نمٹائے گئے مقدمات کے بارے میں چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ 15 نومبر 2012ءتک ڈسٹرکٹ ساﺅتھ کراچی میں 727 پرانے کریمنل اور سول کیسز نمٹائے گئے۔ کراچی ویسٹ میں1868‘ کراچی ایسٹ میں 324‘ کراچی سینٹرل میں 120‘ ملیر میں50 پرانے مقدمات نمٹائے گئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سندھ ہائیکورٹ کا کراچی ملیر ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز افسران کو بریفنگ کیلئے اجلاس ہوا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عدلیہ چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے، عوام پر عدلیہ کا اعتماد بڑھا ہے، آزاد اور غیرجانبدار فیصلوں نے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھایا ہے، ماتحت عدلیہ کے افسر ایمانداری سے کام کر رہے ہیں۔