سندھ حکومت کا کالاباغ ڈیم کیخلاف صوبائی اسمبلی میں پھر قرارداد لانے کا فیصلہ

کراچی + اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) سندھ حکومت نے ایک بار پھر صوبائی اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کیخلاف قرار داد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعہ کو سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 6 دسمبر کو سندھ اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کے خلاف قرار داد پیش کی جائے گی۔ کالا باغ ڈیم کی حمایت سے ثابت ہو گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) وفاق کی سالمیت پر یقین نہیں رکھتی ہے۔ 3 صوبوں کی متفقہ رائے کو اہمیت نہ دینا وفاق کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ وفاق پر حملہ ہے، وفاق کی تین اکائیاں کالا باغ ڈیم کو مسترد کرچکی ہیں ¾ فیصلے میں تخت لاہور کا لہجہ استعمال کیا گیا ہے جبکہ اے این پی کے ترجمان سینیٹر زاہد خان کا کہنا تھا کہ مردہ معاملات اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں صرف نقصان ہوگا۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق فیصلے پر اے این پی اپنی حکمت عملی کا اعلان جلد کرے گی۔ علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ ملک میں انتشار کو بڑھائے گا۔ رابطہ کمیٹی اور قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان سے ٹیلی فونک خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر حکومت اور پارلیمنٹ کا حق ہے اور ایسے فیصلے صوبوں کی مشاورت سے ہوتے ہیں لہذا عدالتوں کو اس طرح کے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر صر صوبے متفق نہیں ہیں اس لئے ایسے منصوبے نہیں بننے چاہئیں جن سے ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے۔ ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کوعوام کے تعاون سے ناکام بنا دیا جائیگا آئندہ سال کے پہلے ماہ میں ملک میں ادویات کی جانچ پڑتال کیلئے عالمی معیار کی جدید لیبارٹری قائم کر دی جائے گی۔ علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے عدالتی فیصلے پر مشاورت کی جائے گی۔ بلدیاتی نظام کے خلاف مشاورت کے بعد احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔ کالا باغ ڈیم سے متعلق عدالت کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ نئے بلدیاتی قانون کے خلاف ہیں۔ زمینی حقائق الیکشن کی طرف نہیں جا رہے۔ کراچی میں 80 فیصد جرائم میں پولیس ملوث ہے۔ کالا باغ ڈیم قوم کو تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ڈیم کسی حال میں تعمیر نہیں ہونے دیا جائیگا۔ صدر زرداری سیاسی قتل و غارت گری رکوائیں ورنہ سندھ میں کوئی سیاست نہیں کر سکے گا۔