کیانی نے حقانی گروپ کیخلاف آپریشن کی یقین دہانی کرائی‘ امریکی اعتبار کرنے کو تیار نہیں: نیو یارک ٹائمز

کیانی نے حقانی گروپ کیخلاف آپریشن کی یقین دہانی کرائی‘ امریکی اعتبار کرنے کو تیار نہیں: نیو یارک ٹائمز

 کراچی (نوائے وقت نیوز) امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ لکھتا ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے جون میں افغانستان کے سالارنیو حملے کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے نجی طور پر امریکی حکام کو بتایا کہ وہ آئندہ بارہ ماہ میں وہ حقانی نیٹ ورک کےخلاف تین مرحلوں میں فوجی آپریشن کرینگے۔ امریکی حکام کی اکثریت ان وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے طنزیہ کہا کہ جدید جنگی تاریخ میں یہ سب سے تاخیری مہم ہے۔ اخبار نے سالارنیو حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ شدت پسند گروپ پاکستان امریکہ تعلقات کیلئے خطرہ بن گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے انخلاءکی تیاریوں میں ہے، یہ حملہ اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان امریکہ تعلقات میں حقانی نیٹ ورک سب سے بڑی برائی ہے۔ دونوں ممالک کئی ماہ سے کشیدہ تعلقات کے بعد واپس ٹریک پر آئے ہیں۔ اس نئی مفاہمت کی ایک ابتدائی علامت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کا واشنگٹن کا دورہ ہے لیکن تعلقات ابھی بھی سیخ پا نوعیت کے ہیں۔ ڈرونز حملوں، افغان جنگ اور حقانی نیٹ ورک کے متعلق دونوں ممالک میں اختلافات موجود ہیں۔ اخبار کے مطابق اب حقانی گروپ کی طرف سے وسیع پیمانے پر امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دلیرانہ اقدام سامنے آیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ انتظامیہ کے اندر یہ ایک عام نقطہ نظر پایا جاتا ہے کہ پاکستان کیخلاف یکطرفہ سفارتی یا عسکری امریکی کارروائی کیلئے شدت پسندوں کی جانب سے امریکہ کیخلاف ایک بڑا حملہ ہی کافی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگر حقانی گروپ کی طرف سے کسی ایک ہی حملے میں 50 سے زیادہ فوجیوں کو اڑا دیا گیا یا شدت پسند کابل میں امریکی سفارتخانے میں گھس گئے اور کئی سفارتی اہلکاروں کو ہلاک کردیا، تو کھیل تبدیل ہوجائیگا۔ اخبار کے مطابق ان تمام مسائل کا الزام آئی ایس آئی پر دیا جاتا ہے جن کے سربراہ واشنگٹن کا دورہ کررہے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کو واشنگٹن میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ان کے ساتھ جو بھی بات ہوگی اسکا لب و لہجہ کانگریس نے پہلے ہی طے کرلیا ہے۔