نواز شریف گھر نہیں کہیں اور جائینگے ،لانڈھی جیل کھانا بھیجنے کو تیار ہوں : زرداری ، پانامہ کیس سے ثابت ہوگیا شریفوں اور غریبوں کیلئے الگ قانون ہے ،بلاول

جھنگ + شاہ جیونہ (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فیصلے سے ثابت ہو گیا ایک فیصلہ شریفوں کیلئے اور دوسرا ملک کے عوام کیلئے ہے۔ ایک قانون شریفوں کیلئے اور دوسرا قانون غریب عوام کیلئے ہے۔ یہ لوگ ماڈل ٹاﺅن کے لوگوں کو قتل کر دیں کوئی مجرم نہیں ٹھہراتا۔ شاہ جیونہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کب تک ملک میں یہ دو قانون چلیں گے۔ ایک خط نہ لکھنے پر گیلانی کو گھر بھیج دیا گیا۔ شہید بی بی کی حکومت کو آئین کے ایک ہی آرٹیکل کے تحت ختم کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں ایک پاکستان اور ایک قانون چاہئے۔ نہ ہی ہمیں دو پاکستان چاہئیں اور نہ ہی دو قانون۔ عوام اور نوجوانوں سے پوچھتا ہوں، آپ ان دو قانون کو مانتے ہیں۔ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں طاقتور اور کمزور کیلئے ایک ہی قانون ہو۔ میاں صاحب آپ مکمل طور پر بری نہیں ہوئے۔ عوام کی عدالت نے آپ کیخلاف فیصلہ دیدیا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ فیصل صالح حیات کو دوبارہ پارٹی میں شامل ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ شاہ جیونہ کے لوگوں کا پیار دیکھ کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ اس بار ہم نے شریفوں کو مٹانا ہے آر اوز کے الیکشن کو ایکسپوز کرنا ہے۔ اس دھرتی کے ساتھ کیا کیا گیا؟ نہ یہاں بجلی ہے اور نہ پانی۔ ہم الیکشن نہیں ہارے، آر اوز نے ہمیں ہرایا ہے۔ ن لیگ نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا؟ نہ بجلی نہ پانی، قرض دوگنا کر دیا، عوام کے ساتھ یہ کیا کیا؟ ہم نے شاہنواز، بے نظیر اور مرتضیٰ کے جنازے اٹھانے کے بعد بھی پاکستان کیلئے کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے کہا آج سندھ کی اسمبلی نے گو نواز گو کی قرار داد پیش کر دی ہے اس مرتبہ ہم نے پنجاب کا قلعہ فتح کرنا ہے، میاں صاحب کو ہم گھر بھیجیں گے، میاں صاحب آپ گھر نہیں کسی اور کے گھر جائیں گے۔ آپ سمجھ لیں جیسے مشرف کو گھر بھیجا تھا اب نواز شریف کو بھیجیں گے۔ آپ صرف سرکاری روٹیاں توڑنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ چاروں صوبوں کو آپ سے نجات چاہئے۔ آپ سے کچھ نہیں ہوتا، آپ پائے کھانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ کو لانڈھی جیل میں کھانا بھیجنے کیلئے تیار ہوں۔ ہر طرف سے آپ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ یہ میرا پہلا جلسہ ہے میاں صاحب کے خلاف آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ انہوں نے قوم کا حق لوٹا ہے، ہم ان سے حق واپس لیں گے۔ ابھی تو عشق کی ابتدا ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ یہاں تو میں مخدوم صاحب کی دعا لینے آیا ہوں۔ سب دوستوں کے ساتھ مل کر ان کی دوا کرنے آ رہا ہوں۔ انشاءاللہ میں پورے پاکستان میں نکلوں گا۔ میاں صاحب آپ گھر نہیں جائینگے کسی اور گھر جاﺅ گے، مدینہ چلے جائیں یا پھرآپ کو لانڈھی جیل میں دوبارہ کھانا دینے کےلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری فیصل صالح حیات سے درخواست ہے کہ وہ ہماری وائس چیئرمین شپ منظور کریں اور ہمارے ساتھ چلیں۔ میاں صاحب آپ اپنے گھر نہیں جائیں گے کسی اور گھر جاﺅ گے، مجھے پتا ہے آپ اس گھر میں کتنے بہادر تھے جب گئے تھے آپ کے رونے کی آوازیں ہمیں آج تک سنائی دیتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میاں صاحب کچھ تو غریبوں پر رحم کریں۔ پانامہ کیس کے فیصلہ پر آصف علی زرداری نے کہا کہ پانامہ کا یہی کرنا تھا تو یہ ایک ہفتے کی بات تھی اتنی دیر کیوں کر دی؟۔ قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب آپ مکمل طور پر بری نہیں ہوئے، دو ججز نے آپ کو نااہل قرار دیا ہے، آپ کیخلاف عوام کی عدالت نے بھی پاناما اور لوڈشیڈنگ پر فیصلہ دے دیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنے خطاب کے اختتام پر گو نواز گو کے نعرے لگوائے اور کہا ” مک گیا تیرا شو ، گو نواز گو نواز“۔ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم جب تک نوازشریف کی حکومت کو ختم نہ کر دیں چین سے نہیں بیٹھیں گے اور پنجاب فتح کرکے شریفوں کو مٹائیں گے۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ذاتی طور پر زرداری صاحب کا ممنون ہوں۔ اگر زرداری صاحب کا پسینہ گرے تو ہمارا خون گرے گا۔ جاتی امرا کے حکمرانوں سے عوام تنگ آچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو روایتی پگ پہنائی۔

زرداری/ بلاول