سیاست کو گالی بنا دیا گیا، اسلامی نظام کیلئے علماپارلیمنٹ میں آئیں: فضل الرحمن

جھنگ + فیصل آباد (نامہ نگار+ نمائندہ خصوصی) اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں ناموس رسالت کا تحفظ نہ کرسکیں تو ہمیں جینے کا کوئی حق نہیں۔ تحفظ ختم نبوت ورسالت ہر مسلمان کا عقیدہ ہے ان کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ بنگلہ دیش میں مدارس اور تحریکوں کو اس لئے کچل کر ریاست کو سیکولر قرار دے دیا گیا کہ ان کے پیچھے کوئی سیاسی قوت نہیں تھی۔ جمعیت علماءکا قیام کسی فرقے اور مسلک کی بنیاد پر نہیں ہوا بلکہ مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے اکابرین علماءاور درگاہوں کے صوفیاءنے پلیٹ فارم مہیا کیا تھا۔ علماءبچوں کے کان میں اذان، نکاح، جنازہ کی طرح عوام کی انفرادی واجتماعی زندگی میں پبلک کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے سیاست میں حصہ لیں۔ بندوق کے ذریعے اسلامی نظام نہیں آسکتا اسلامی نظام کی خواہش پارلیمنٹ وسیاست سے انکار کرکے پوری نہیں ہوگی، جمہوریت اور پارلیمنٹ کا راستہ ہی اپنانا پڑے گا۔ اسلحہ کی طاقت حاصل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، علماءکرام قوم کا ساتھ اور فیصلہ لینے کیلئے ان کے عام مسائل کو خدمت کے جذبے سے حل کریں۔ سیاست کو گالی بنادیا گیا اسے پاک کرنے کیلئے باکردار اور صالح علماءعوامی اعتماد کے ساتھ ووٹ حاصل کرکے پارلیمنٹ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسلامی نظام ہی انسانی حقوق کا ضامن ہے۔ جے یو آئی کا اگلے ماہ صد سالہ پشاور اجتماع شیخ الہند کے ویژن کے مطابق ہمیں قوم اور امت کی آواز بننے پر اکساتا ہے۔ اجتماع میں تمام مجمع کی آمد کا منتظر رہوں گا۔ ان خیالات کا اظہارجمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ و چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے جے یوآئی ضلع فیصل آباد کے زیراہتمام جامعہ اسلامیہ امدادیہ ستیانہ روڈ پر پشاور صدسالہ اجتماع کی تیاری کے سلسلے میں ’علماءکونشن‘ میں شریک مدارس کے ناظمین وآئمہ مساجد سمیت 2ہزارسے زائد علماءکرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جے یوآئی کے ضلعی امیر مخدوم زادہ سید محمد زکریا کی زیرصدارت اور مفتی محمد طیب کی میزبانی میںہونے والے ’علماءکنونشن‘ میں مولانا سید جاوید حسین شاہ، مولانا محمد زاہد، سید نذیر شاہ بخاری، قاری جمیل الرحمن رحیمی، قاری حبیب الرحمن، مولانا شاہد لطیف، میاں عبدالمنان ایم این اے مسلم لیگ ن، امیر ضلع جماعت اسلامی انجینئر محمد عظیم رندھاوا،محبوب الزمان بٹ، مولانا مسرور نواز جھنگوی ایم پی اے، مولانا اسماعیل شجاع آبادی مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ڈاکٹر جاوید اختر جمعیت علماءپاکستان نورانی،پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے طارق باجوہ، سٹی صدر انتظار عدیل تاج، جمعیت اہلحدیث کے صدر عبدالصمد معاذ، انجمن تاجران سپریم کونسل کے سرپرست محمد اسلم بھلی، پاکستان علماءکونسل کے وفد صوبائی صدر حافظ محمد امجد ، عمر قاسمی، طیب قاسمی ،جے یوآئی کے ضلعی نائب امیر میاں محمد عرفان، سیکرٹری اطلاعات محمد یوسف انصاری، چوہدری فضل الٰہی جٹ، مولانا یعقوب عثمانی، مولانا شاہد معاویہ، ڈاکٹر زبیر، میاں عامر شہزاد، نویداحمد،ڈاکٹر شاہد ندیم، عبدالمجید مجاہدضلعی سالار سمیت علماءکرام، معززین شہر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔قائد جمعیت نے کہا فیصل آباد کے علماءجمعیت علماءاسلام کا ساتھ دیں آئندہ انتخاب میں فیصل آباد کے ہر قومی وصوبائی اسمبلی کے حلقہ سے امیدوار دیں گے۔لاکھوں ووٹ علماءکو مل سکتے ہیں۔جے یوآئی کوسیاسی طور پر ووٹ کی طاقت سے مضبوط کریں تو مدارس پر چھاپے نہیں پڑیں گے۔ انہوں نے کہا امن کیلئے قرآنی تعلیم کے مطابق انسانی حقوق کا تحفظ ضروری ہے ورنہ فساد ہوگا۔سیاسی ترجیحات میں قوم کے اجتماعی معاملات کواتفاق رائے سے چلانا ہوتا ہے زمانے کے ساتھ علماءنے اپنی ذمہ داریاں کسی اور کے حوالے کردیں۔ سیاست کو شریف لوگوں کی بجائے چوروں وڈاکوو¿ں کا کام سمجھ لیا گیا۔مگر یاد رکھیں سیاست انبیاءکاوظیفہ ہے انبیاءکے وارث علماءکو انبیاءکی وراثت سیاست کو عیب نہیں سمجھنا چاہئے۔ اکابر علماءکی قرآن وسنت کی بنیاد پر سیاست کی وجہ سے آج پاکستان کا آئین اسلامی ہے اور حاکمیت اعلیٰ اللہ کی،اسلام کے علاوہ قانون سازی جرم ہے۔ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے مگر وہاں قرآن وسنت سے واقف لوگوں کی بہت کمی ہے۔ اسے قرآن وسنت کے مطابق بنانے کیلئے اور اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے علماءکو پارلیمنٹ میں آنا ہوگا۔ اس کے بغیر یہ اعتراض غلط ہے کہ قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق کیوں نہیں؟عسکریت شارٹ ٹرم جبکہ پارلیمانی جدوجہد لانگ ٹرم اور تسلسل والی ہے۔ الیکشن میں ناکامی یا کامیابی عارضی ہوتی ہے ذرائع میں تبدیلی ہوتی ہے اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ افراد کے مسائل کے حل کیلئے واحد پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہے اسی کے ذریعے قوت کا حصول ممکن ہے۔ مدرسہ، فیکٹری، سکول، کالجز، کاروبار چلانا انفرادی معاملہ ہے مگر پورے معاشرے کو چلانے کیلئے قیادت اور طاقت کی ضرورت ہے جامع نظریہ حیات جمعیت علماءاسلام کا نظریہ ہے۔ بدنظمی کی زندگی کوئی زندگی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بعد ازاں مقامی ہوٹل میں عشائیہ میں صنعتکاروں اور تاجروں کے اجتماعات سے بھی خطاب کیا۔جامعہ امدادیہ کے مہتمم مفتی محمد طیب نے مدرسہ آمد پر خیر مقدم کیا اور پشاور عالمی صد سالہ اجتماع میں بھرپور تعاون اور آئندہ سیاسی طور پر جے یوآئی کا ساتھ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ جھنگ سے نامہ نگار کے مطابق مدرسہ معہدالفقیر میں جے یو آئی کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا پاکستان کو حقیقی معنوں میں خود مختار بنانے کیلئے بیرونی مداخلت کا دروازہ بند کرنا ہو گا،، پڑوسی ممالک کا استحکام ہما رے لئے مفید ہے کوئی بھی ادارہ آئین سے بالا تر نہیں تمام ادارے اپنی حدود میں کام کر یں تو ملک میں سیاسی نظام مضبوط ہو گا۔ اس موقع شہباز گجر، عبدالرحمن عزیز ، مولانا حافظ محمد طارق ، قاری اقبال حیدری، پرو فیسر اقبال شاہد مسرور نواز ایم پی اے ، نصر اللہ حسن ، قاری محمد طاہر ، امجد اقبا ل ساجد ودیگر موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا 7،8،9اپریل کو جے ےو آئی کا پشاور میں عالمی اجتماع ملکی سیاست میں سنگ میل ثابت ہو گا اور پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا جائے گا بعد ازاں مولانا فضل الرحمن نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا اور کہا مدارس ملک میں علم و شعور کے فروغ میں روشن کردار ادا کر رہے ہیں ، مدارس ومساجد پر بے جا پابندیاں قابل برداشت نہیں۔ پنجاب میں مساجد کی تعمیر پر مختلف پابندیاں غلط ہیں پنجاب حکومت فوری طور پر ان پابندیوں کو ختم کرے۔
فضل الرحمن