جے آئی ٹی کے پیچھے چھپنے والے بزدلو میدان میں آکر مقابلہ کرو : نواز شریف

جھنگ/ سرگودھا (نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگار) وزیراعظم نوازشریف نے حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ کا افتتاح کر دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خوشی کی بات ہے 21ماہ کے بعد یہاں پھر حاضر ہوا ہوں کچھ ماہ پہلے جس جگہ پر کھیت اور میدان تھے آج اتنا بڑا منصوبہ تیار ہو چکا ہے اتنے کم عرصہ میں کسی پاور پلانٹ کا ایک سیکشن تیار نہیں ہو سکتا پاکستان میں منصوبوں کی تیز ترین تکمیل کی نئی روایت قائم ہو رہی ہے جب سے حکومت سنبھالی 7ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ پاکستان میں روشنیاں واپس لوٹ رہی ہیں، ملک میں خوشحالی آ رہی ہے، لوگوں کی آمدنی اور قوت خرید بڑھ رہی ہے۔ ملک میں ٹورزم بڑھ رہا ہے، بجلی کے درجنوں منصوبے تیار ہو رہے ہیں آج انڈسٹری چل رہی ہے، نئے منصوبے لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ انڈسٹری لگائیں بجلی آ رہی ہے، آنے والے برسوں میں ترقی کی شرح سات فیصد بڑھ جائے گی۔ ہمارا قوم کے ساتھ وعدہ تھا کہ اندھیرے دور کریں گے یہ وعدہ پورا کر رہے ہیں ہم لوڈشیڈنگ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے جا رہے ہیں ملک میں جگہ جگہ موٹر ویز اور ہائی ویز بنائے جا رہے ہیں، منصوبے کی تکمیل پر وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر پانی و بجلی کو مبارکباد دیتا ہوں ہمارے مخالفین کو یہی تکلیف ہے کہ پاکستان ترقی کیوں کرتا ہے۔ بڑے بڑے منصوبے بن رہے ہیں یہ انقلاب آ رہا ہے۔ سڑکیں بن رہی ہیں۔14اگست کو کراچی حیدر آباد موٹروے بن جائے گی۔ اب بلوکی اور پورٹ قاسم منصوبوں کے افتتاح کی باری ہے۔ قوم سے روشنیاں چھین کر زیادتی کی گئی۔ عوام کو ان لوگوں سے پوچھنا چاہئے جنہوں نے ملک میں اندھیرے کئے آج کہتے ہیں نوازشریف کس طرح بجلی لا رہے ہیں۔ 14اگست کو کراچی، حیدر آباد موٹروے بن جائےگی۔ لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار وہ ڈکٹیٹر بھی ہے جو باہر بیٹھا ہے ان کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ جو بڑی باتیں کرتے ہیں ان کا جتنا حساب لیا جائے وہ کم ہے۔ اپوزیشن والے احتساب کی بات کرتے ہیں،168ارب بچائے، شاباش ہی دیدو، وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کو تو آپ جانتے ہیں۔ جے آئی ٹی نے 10جولائی کو رپورٹ جمع کرانی ہے اسی روز داسو پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ بھاشا ڈیم بھی تقریباً تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ آج پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہے۔ بھاشا ڈیم بجلی ہی نہیں، کاشتکاروں کیلئے پانی بھی مہیا کرے گا۔ جنہوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے انہیں بتانا چاہتا ہوں ہمیں کام سے کوئی نہیں روک سکتا آپ کو یہی کام ملا ہے آپ اپنا کام کرتے رہیں ہم اپنا فرض پورا کریں گے۔ آپ ہزار بار بھی آسمان سر پر اٹھا لیں ہمیں کوئی عوام کی خدمت سے نہیں روک سکتا، جو کچھ پچھلے سال سے آپ کر رہے ہیں قوم جانتی ہے، ہمارے مخالفین ہم سے الیکشن جیت نہیں سکتے صرف سازش کرتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن سے ایک بار نہیں بار بار شکست کھائی ہے، آئندہ بھی کھائیں گے۔ آپ دھرنے اور احتساب کی آڑ میں سازش کرتے ہیں کبھی جے آئی ٹی کی آڑ میں چھپتے ہیں ان چیزوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے میدان میں آکر مقابلہ کرو۔ آﺅ میدان میں جب کہو گے ہم میدان میں آنے کیلئے تیار ہیں، جو کام آپ چار سال سے کر رہے ہیں قوم جانتی ہے، کبھی دھاندلی کی آڑ میں سازش کرتے ہیں، کبھی دھرنے کی سازش کرتے ہیں، آپ الیکشن نہیں جیت سکتے اس لئے ایسا کر رہے ہیں۔ سندھ میں تھر کے اندر کوئلے سے بجلی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ خیبر پی کے میں موٹروے ہم بنا رہے ہیں، ہم قوم کی خدمت کرتے رہیں گے، ہمارا عزم مضبوط ہے روکنے والے کامیاب نہیں ہوں گے۔ پچھلے دنوں کے حالات سے سٹاک مارکیٹ کتنی نیچے آئی ہے۔ غیر یقینی صورتحال سے سٹاک ایکسچینج اور روپے کی قدر پر منفی اثر پڑا ہے۔ یہ لوگ میٹرو کو جنگلا بس کہہ کر لوگوں کی غربت کا مذاق اڑاتے ہیں، یہ لوگ ان منصوبوں کا نہیں غریبوں کی غربت کا مذاق اڑاتے ہیں، میٹرو بس کا مذاق اڑانے والے بچوں اور مزدوروں سے اس کی افادیت پوچھیں، پانچ سو ارب روپے سے ریلوے سسٹم کو اپ گریڈ کر رہے ہیں، اورنج لائن پورے پنجاب میں پورے پاکستان میں چلے گی۔ الیکشن جیت نہیں سکتے تو سازش کرتے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے خطاب میں کہا کہ یہ منصوبہ 21ماہ میں پورا ہوا جو نیا ریکارڈ ہے۔ پانامہ افسانے سے زیادہ لوگ وزیراعظم کے کارنامے یاد رکھیں گے، اچھی قیادت کی رہنمائی میں کام ہو تو ملک کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ منصوبوں کے آغاز پر مخالفت ہی مخالفت تھی۔ آج ان فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں وہ فیصلے آئے ملک کو اندھیرے سے نکالنے کا باعث بن رہے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ پانامہ افسانے سے زیادہ وزیراعظم کے کارنامے یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم نے ملک کیلئے جو کچھ کیا ہے قوم وہ یاد رکھے گی۔ تینوں پاور پراجیکٹس میں 168ارب روپے کی بچت کی گئی۔ ہماری کارکردگی ہمارا اعمال نامہ جبکہ پانامہ افسانہ ہے۔ یہ تمام منصوبے وزیراعظم کا اعمال نامہ ہے۔ کیا پانامہ کے افسانے اور وزیراعظم کے اس اعمال نامے کا کوئی مقابلہ ہے۔ ہمارے منصوبوں کی شفافیت کی دنیا گواہی دے رہی ہے۔ منصوبے کی فی میگاواٹ لاگت4لاکھ 88ہزار ڈالر ہے۔ عوام کی خدمت میں وزیراعظم کا اعمال نامہ ہے۔ جنہوں نے بڈنگ نہیں کرائی انہیں جیل میں ہونا چاہئے۔ قومیں کیا اس طرح بگڑتی یا بنتی ہیں جس نے نندی پور پراجیکٹ میں ڈاکہ زنی کی وہ آج احتساب پارٹی میں شامل ہے اگر ملک کو آگے لے کر چلنا ہے تو بلا امتیاز کڑا احتساب کرنا ہوگا۔ نندی پور منصوبے کی مشینری 3سال تک کراچی بندرگاہ پر پڑی رہی۔
نوازشریف/ شہبازشریف