دیار غیر میں وطن کی شناخت اجاگرکرنے میں پی آر سی کا کردار منفرد رہا: نسیم سحر

جدہ(نمائندہ خصوصی) جدہ کے معروف شاعر اور مجلس محصورین پاکستان کے جنرل سیکرٹری نسیم سحر کے اعزاز میں مجلس محصورین پاکستان نے ایک الوداعی تقریب کا اہتمام مقامی ہوٹل میں کیا ۔ جس میں اُردو میگزین کے ایڈیٹر رو¿ف طاہر نے اپنے صدارتی خطبہ میں نسیم سحر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے جس طرح انہوں نے جدہ میں اُردو کی خدمت کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔انہو ں نے کہا کہ ہماری دُعا ہے کہ نسیم سحر پاکستان میں بھی ادب میں اپنا کردار ادا کریںگے۔ نسیم سحر نے اپنے خطاب میں مجلس محصورین پاکستان کے ساتھ اپنی طویل رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کے مسائل کو اُجاگر کرنے میںیہ تنظیم کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے تمام افراد کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیار غیر میں وطن کی شناخت کو اُجاگر کرنے میں پی آر سی کا منفرد انداز رہا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان جا کر بھی پی آر سی کے ساتھ تعلق کو بحال رکھتے ہوئے اس کے لئے کوارڈینیٹر کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ تقریب میں معروف شعراءاطہر نفیس عباسی، نعیم بازید پوری، سید محسن علوی، عبدالقیوم واثق اور ذمرد خان سیفی نے نسیم سحر کو خراجِ تحسین پیش کیا جبکہ سید مہتاب احمد نے نسیم سحر کی کہی ہو محصورین پر نظم پیش کی۔ اس کے علاوہ حامد اسلام خان، گلاب خان، طارق محمود، انجینئر عزیز احمد، شیخ لقمان، محمد جمیل راٹھور، انجینئر رشید چشتی، محمد عتیق الرحمن نے بھی نسیم سحر کو خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر سمیرہ عزیز کا پیغام مسرت خلیل نے پڑھا۔کنوینئیر احسان الحق سیدنے نسیم سحر کے اعزاز میں مقالہ پیش کیا اور مسئلہ کشمیر اور محصورین کے حل کے لئے قرارداد پیش کی۔ آخر میں صدر تقریب رو¿ف طاہر نے پی آر سی کی طرف سے نسیم سحر کو کارہائے نمایاں برائے محصورین اور کشمیر پر اعزازی شیلڈ پیش کی۔