پاکستان کا دولخت ہونا پوری امت کیلئے المیہ تھا: مجلس محصورین پاکستان

جدہ (نمائندہ خصوصی) مجلس محصورین پاکستان (PRC) کے تحت سقوط ڈھاکہ کی 41 ویں برسی پر سمپوزیم ”محصور پاکستانیوں کی واپسی ہمارا قومی فریضہ“ ہوا۔ معروف سعودی دانشور و سابق سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی مہمان خصوصی نے PRC کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان کا دولخت ہونا پوری امت مسلمہ کیلئے ایک المیہ تھا اور یہ ہم سب کیلئے ایک سیاہ دن تھا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کو سنجیدگی سے ان کی منتقلی و آبادکاری کیلئے لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی ٹریبونل (عدالت) کی بھی مذمت کی جو 1971ءمیں پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو سزائیں دینے کیلئے قائم کیا ہے اور اس میں قائدین محصور پاکستانیوں کے علاوہ ان بنگالیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے 1971ءمیں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ جس طرح یہ ٹریبونل کارروائی کر رہا ہے وہ صرف انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔ اس کے خلاف آواز بلند کرنی اور ان محب وطن پاکستانی مظلومین کی مدد کرنا چاہئے۔ پاکستان جرنلسٹس فورم کے صدر شاہد نعیم نے کہا کہ سقوط ڈھاکہ پر قائم حمود الرحمن کمشن رپورٹ پر عملدرآمد کیا جاتا تو ملک میں پھر اس طرح کا بحران نہ آتا۔ سیاسی‘ دینی جماعتوں اور اداروں نے محصورین کو یکسر بھلا دیا بلکہ اب تو ان کے منشور کا حصہ بھی نہیں رہا۔ چند پرائیویٹ این جی اوز جیسے نوائے وقت فنڈ‘ ............ ہیلپرز‘ ............ وغیرہ ان کی امداد کرتے ہیں اور PRC جیسی تنظیموں نے اس کاز کو زندہ رکھا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مسئلہ محصورین کے حل کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرے۔ محمد اکرم آغا ان شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا جو دفاع پاکستان کی جنگ میں شہید ہوئے۔ حامد اسلام خان نے کہا کہ 16 دسمبر ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ محصورین کی پاکستان منتقلی ہمارا قومی فریضہ ہے۔ شیخ محمد لقمان نے کہا کہ ابتدائی طور پر مشرقی پاکستان کے عوام سے ناانصافی کی گئی جس کا فائدہ اندرا گاندھی نے اٹھایا۔ محصور پاکستانیوں کو جلد وطن واپس لایا جائے۔ شمس الدین الطاف نے کہا کہ صرف فوج اور سیاسی رہنما¶ں کو سقوط ڈھاکہ کا مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک عالمی سازش کا حصہ تھا۔ محمد امانت اللہ نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا اور یہی نظریہ اس کو قائم رکھ سکتا ہے۔ طارق محمود نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ محصورین کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں۔ کنوینئر احسان الحق نے کہا کہ سقوط مشرقی پاکستان سے ہمیں جو سبق سیکھنا تھا وہ نہ سیکھا۔ مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں: (1) محصور پاکستانیوں کی منتقلی و آبادکاری کیلئے رابطہ ٹرسٹ بحال‘ رنگپور اور دوسرے محصورین کیمپوں میں بنگالیوں کے حملے اور آتشزنی کے خلاف تحفظ پر عملدرآمد کرایا جائے۔ (2) مقبوضہ کشمیر سے ہندوستانی افواج واپس بلائی جائے۔ ابتدا قاری عبدالمجید کی تلاوت سے ہوئی۔ نعت رسول سید محسن علوی نے پیش کی۔ نظامت معتمد عمومی عبدالقیوم واثق نے کی۔ معروف شعراءزمرد خان سیفی‘ عبدالقیوم اور انجینئر محسن علوی نے شہدائے مشرقی پاکستان کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ آخر میں قاری عبدالمجید نے پاکستان کی یکجہتی‘ مسائل محصورین اور کشمیر کے حل کیلئے دعا کی۔ مرحوم خورشید احمد صدیق (والد خالد خورشید) کیلئے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔