قائمہ کمیٹی برائے رولز کا اجلاس، ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے کمیٹی قائم

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کمیٹی برائے رولز اینڈ پروسیجر کے چیئرمین چودھری اسد رحمن نے کہا کہ جب ارکان پارلیمنٹ انصاف کیلئے دھکے کھا رہے ہیں تو پھر عام آدمی کی کیا حالت ہوگی قانون کی بالادستی کو قائم رکھا جائے۔کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر سب کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی۔ کمیٹی نے ایوان میں اذان کے بعد کارروائی جاری نہ رکھنے کی بھی جماعت اسلامی کی رکن نعیمہ کشور خان کی تحریک منظور کرلی۔ جمعہ کے روز چیئرمین چوہدری اسد رحمن کی زیر صدارت رولز اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس پپس میں منعقد ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شاہجہان منیر مینگرو نے کمیٹی کو تحریک پیش کرتے بتایا سکھر میں 11جون 2013ءکو رات ڈھائی بجے گھر پر ڈاکہ مارا گیا ابھی تک چوری کا سامنا نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سامان نہیں بلکہ چور چاہئے کیا میں مسلم لیگ (ن) کی ایم این اے ہوں تو اس لئے ڈاکہ مارا گیا جس پر پیپلز پارٹی کی کمیٹی ممبر شگفتہ جمالی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی پارٹی کا نام نہ لو تمہیں اخلاقیات کا پتہ نہیں کہ پارلیمنٹرین کس طرح گفتگو کرتے ہیں جس پر شاہجہان منیر مینگر و شدید برہم ہوگئیں۔ دونوں ارکان میں سنگین جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایک موقع پر شاہجہاں منیر نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈی آئی جی سندھ مشتاق مہر نے رکن قومی اسمبلی اور کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے بہت جلد چوری میں ملوث ملزموں کو گرفتار کرکے ان کے نام بتا دینگے۔ پارلیمنٹرین کی تنخواہوں اور الاﺅنس میں اضافے پر مسلم لیگ (ن) کے چوہدری بشیر محمود ورک نے سیکرٹری پارلیمنٹرین امور منظور علی خان سے کہا کہ پارلیمنٹرین کی عزت نہیں ہے جبکہ فیڈرل سیکرٹری اور دیگر سے زیادہ مرتبہ پارلیمنٹرین کا ہوتا ہے ہر سال پبلک ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر ہماری تنخواہیں اسی شرح سے کیوں نہیں بڑھائی جاتیں جس پر سیکرٹری پارلیمنٹرین امور منظور علی خان نے کہا کہ جب بھی پبلک سرونٹس کی تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے تو وزارت خزانہ کو پارلیمنٹرین کی تنخواہوں میں اسی شرح سے اضافے کی سمری بھجوائی جاتی ہے چیئرمین کمیٹی نے بھی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے ساتھ ہی کیبنٹ ڈویژن کی عمارت ہونی چاہیے کیبنٹ اور اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کسی تحت بھی قومی اسمبلی کے برابر نہیں۔ سابق آمر ایوب خان کا خیال تھا کہ جوڈیشری اور بیورو کریسی ان کے ساتھ ہونی چاہئے حقیقت میں ایوب خان کو جمہوریت کے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔
قائمہ کمیٹی