بے گھر افراد کیلئے مکان بنائے جائیں‘ سبسڈی دینگے : نوازشریف

بے گھر افراد کیلئے مکان بنائے جائیں‘ سبسڈی دینگے : نوازشریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) وزیراعظم محمد نوازشریف نے ماہرین اور منصوبہ سازوں پر زور دیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہاﺅسنگ کا منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ لاکھوں بے گھر لوگوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ ملک میں 40ملین خاندانوں میں سے صرف 10فیصد کے پاس اپنے گھر ہیں۔ منصوبہ ساز نئے شہر بسانے کے لئے منصوبے تیار کریں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار سٹیٹ بنک کے زیراہتمام ”سستے گھروں اور فنانسگ“ کے حوالے سے دو روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کو کم لاگت سے گھروں کی تیاری سکیم کے بارے میں پریزنٹیشن دی گئی۔ اس سکیم کے تحت 5لاکھ گھر تیار کئے جائیں گے، 50ہزار مکان اس سال بنیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ بے حد مشکل ہے کہ ایک غریب آدمی جو اپنے اہل خانہ کو کھلانے کے لئے سخت محنت کرتا ہے وہ مکان بنانے کے لئے قطعہ زمین خرید سکے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شہروں کے باہر ایسے مقامات کی نشاندہی کی جائے جہاں بڑی ہاﺅسنگ سکیمیں تیار کی جا سکیں۔ حکومت ایسے منصوبوں کے لئے سبسڈی دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1997ءمیں ان کی حکومت نے بڑے پیمانے پر مکان بنانے کی سکیم تیار کی مگر حکمت کا تختہ اُلٹے جانے کے باعث سکیم پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، ملک کے اندر وسیع زمین موجود ہے جہاں نئے شہر بسائے جا سکتے ہیں۔ صباح نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے عوام کے لئے سستی رہائشی سکیمیں شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہمیں 4 کروڑ خاندانوں کی رہائشی ضروریات پوری کرنی ہیں، عوام کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے نئے شہر بسانے کی ضرورت ہے پرائیویٹ سیکٹر کو سرکاری ہاﺅسنگ سکیموں کے حوالے سے حکومت کو اپنی تجاویز دینی چاہئیں حکومت بھرپور حصہ ڈالنے کے لئے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بے گھر افراد کی رہائش کی سہولت کے لثے بڑے منصوبے بنانا چاہتے ہیں رہائشی سہولتوں کے لیے چھوٹے منصوبوں نہیں، نئے شہر بسانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے بڑے پیمانے پر رہائشی منصوبے شروع کرنے کی تجویز دی۔ کانفرنس کی انتظامیہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بے گھر افراد کے لئے پہلے سال 50دوسرے سال 75گھر بنائے جائیں گے اسطرح ہر سال گھروں کی تعداد بڑھائی جائے گی جس پر وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ کیا پہلے سال پچاس اور دوسرے سال پچھتر گھر بنانے سے قریباً چار لاکھ خاندانوں کی رہائشی ضروریات پوری ہو سکیں گی، ملک کی 20کروڑ آبادی کے لئے اتنی قلیل تعداد میں گھر بنانا اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر نہیں۔ جس کے پاس پلاٹ ہی نہیں اسے رہائشی قرضے کا کیا فائدہ ہو گا۔ میں اس رہائشی سکیم کے خلاف نہیں مگر یہ ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کی بینکوں تک رسائی نہیں، ملک میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے بالکل گھر نہیں، وسائل بھی نہیں، وہ دن رات محنت مشقت کرکے بچوں کا صرف پیٹ ہی پال سکتے ہیں ہم نے ایسے لوگوں کے بارے میں سوچنا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ آدمی بینک سے قرضہ لے کر جہاں چاہے مکان بنا لے کیونکہ جب لوگ گھر بنا لیتے ہیں تو وہاں پانی بجلی اور گیس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج پر اتر آتے ہیں حکومت کے پاس سرکاری زمین نہیں تو وہ خرید کر ان لوگوں کو دے پھر اس کی لاگت وصول کرے خواہ وصولی کی مدت 15سے 20سال ہی کیوں نہ ہو اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بنک سے قرضہ ملے تا کہ وہ اپنے گھر بنائیں۔ یہی بہتر راستہ ہے بصورت دیگر آپ ہاﺅس بلڈنگ کارپوریشن جیسی کوئی دوسری چیز کھڑی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تیسری تجویز یہ ہے کہ آپ اس پر مزید کچھ کام کریں اس کے بعد اس شعبے کے ماہرین سے مشاورت کریں پھر پریذنٹیشن بنا کر حکومت کو دیں پھر ہم وزیر اعظم ہاﺅس میں اجلاس بلائیں گے اور کوئی حتمی فیصلہ کریں گے، لوگوں کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لئے 10سے 20سال بھی لگ سکتے ہیں اس کارخیر میں حکومت اور بینک مالکان کو اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہئے۔ وزیرخزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ حکومت ملک کی اقتصادی شرح نمو میں اضافے کیلئے ہاﺅسنگ انڈسٹری کو فعال بنانا چاہتی ہے، ملک میں نوے لاکھ گھروں کی کمی ہے۔گھروں کے قرضوں کی فراہمی کی غرض سے ہاﺅسنگ فنانس کریڈٹ گارنٹی سکیم کا اجرا کیا جائے گا، لوگوں کی سہولت کیلئے ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی تشکیل نو کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کے لئے ”موڑگیج“ فنانس قانون میں سقم ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے موڑگیج ری فنانس کمپنی ہاﺅسنگ فنانس کریڈٹ گارنٹی سکیم شروع کی ہیں۔ حکومت بجٹ میں ہاﺅسنگ، زراعت اور شہری ہوا بازی کے یکٹرز کے لئے نئی سکیموں کا اعلان کرے گی۔ گورنر سٹیٹ بنک اشرف محمود وتھرا نے کہا کہ قانونی فریم ورک کی تیاری میں مدد فراہم کی جائے۔
نوازشریف/ ہاﺅسنگ سکیم