قائداعظمؒ کے پڑنواسے کی اہلخانہ کیساتھ قومی اسمبلی آمد‘ ارکان کا ڈیسک بجا کر استقبال

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے پڑنواسے اسلم جناح اور ان کے اہلخانہ کی قومی اسمبلی آمد پر پرتپاک خیرمقدم کیا گیا‘ ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اور پرجوش انداز میں ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔ ایوان میں خوش آمدید کہتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ قائداعظمؒ کی کاوشیں رنگ نہ لاتیں تو آج جس ایوان میں بیٹھ کر ہم ان کے خاندان کو دیکھ رہے ہیں‘ وہ نہ ہوتا۔ تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں مسلم لیگ (ن) کے چیف وہیپ شیخ آفتاب‘ (ق) لیگ کے رکن غوث بخش مہر‘ اے این پی کے پرویز خان‘ ایم کیو ایم کے حیدر عباس‘ وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی‘ آزاد گروپ کے مولوی عصمت اللہ‘ بشریٰ رحمن نے قائداعظمؒ کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ برصغیر میں قائداعظمؒ کے پائے کا کوئی لیڈر نہیں‘ یہ پاکستان قائداعظمؒ کا تحفہ اور امانت ہے‘ اس کی خودمختاری، سالمیت اور وقار پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی، قائد کے فرمان ایمان، اتحاد اور تنظیم پر عمل کرنے سے مشکلات ہمارے قریب بھی نہیں آئیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے خاندان کے افراد کو اسمبلی میں خوش آمدید کہنا ہمارے لئے ایک اعزاز ہے، ہم آج ان عہدوں پر انہی کی وجہ سے فائز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کے بزرگوں نے قائداعظمؒ کے کارکن کے طور پر کام کیا اور ان کے بزرگ سید زین الدین گیلانی مسلم لیگ کی مرکزی اور صوبائی مجلس عاملہ کے رکن تھے اور تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری کے مسودے پر ان کے بزرگوں نے بھی دستخط کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست 1947ء کو ملتان میں تمام سرکاری عمارتوں پر میرے بزرگوں نے قومی پرچم لہرایا۔ ثناء نیوز کے مطابق وزیر سماجی بہبود و خصوصی تعلیم ثمینہ خالد گھرکی نے جناح فیملی کو استقبالیہ دیا اس موقع پر انہیں ایک لاکھ روپے امداد بھی دی گئی۔ چیئرمین بیت الحال زمرد خان نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اسلم جناح اور ان کے اہلخانہ کو 50 لاکھ روپے مالیت کا گھر‘ گاڑی بمعہ ڈرائیور اور 10 لاکھ نقد دئیے گئے ہیں۔ اے پی پی سے گفتگو میں اسلم جناح نے قوم پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کو ترقی وخوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد ویکجہتی کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان گذشتہ 62 سال سے ناگفتہ بہ حالت میں زندگی بسر کر رہا تھا۔ ماضی میں کئی سیاستدانوں اور سرکردہ شخصیات نے ان کی فلاح وبہبود کیلئے وعدے تو کئے لیکن ان کو پورا نہیں کیا گیا تاہم انہیں اس ضمن میں کسی سے کوئی گلہ نہیں۔ انہوں نے گھر، کار اور ماہانہ 50 ہزار روپے اعزازیہ کی سہولیات فراہم کرنے پر حکومت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ بانی پاکستان کے ساتھ خونی رشتہ ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی نہ تو مدد کیلئے کہا اور نہ ہی کسی سے کوئی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ کینسر کی مریضہ ہے اور ایک بیٹی زینب جناح معذور ہے جبکہ ایک بیٹی رابعہ جناح مناسب علاج کے فقدان کے باعث انتقال کر چکی ہے۔