ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول پاکستانی ساختہ ہے‘ امریکہ‘ برطانیہ سے مدد نہیں لی: دفتر خارجہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول مکمل طور پر پاکستانی ساختہ ہے‘ اس کے لئے امریکی یا برطانوی ماہرین سے مدد نہیں لی گئی۔ ترجمان نے کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام میں امریکی رقم استعمال کرنے کی میڈیا رپورٹ درست نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے پیشِ نظر اسے جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد فراہم کررہا ہے یہ امریکہ مصنف اینڈریو کوک برن جو سکیورٹی معاملات پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے پاکستان کی تکنیکی سپورٹ کا مقصد کسی قسم کے حادثات سے بچائو اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ایٹمی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے سے محفوظ رہیں اس مقصد کے لئے امریکہ سالانہ اندازاً ایک سو ملین ڈالر کی امداد فراہم کرتا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی فطری ہے کہ امریکہ نہ صرف وار ہیڈز کے آپریشنل طور پر قابل اعتماد ہونے پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ مزید وار ہیڈز کے تجربات کئے بغیر ان کے ڈیزائن کیلئے درکار ٹیکنالوجی بھی فراہم کررہا ہے، سابق امریکی قومی سلامتی کے ایک اہلکار کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ اگر امریکہ اس میں ملوث ہے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ایٹمی تجربات کا آغاز کرے گا نہ ہی جنگ چھیڑے گا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2008 ء میں پاک فوج نے ایٹمی ہتھیاروں کو مزید محفوظ بنانے کے لئے واشنگٹن بیس ورلڈ سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے صدر بروس بلیئر سے رابطہ کیا تھا اور ان کی رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ بروس بلیئر کے مطابق پاک فوج کا مقصد اپنی ایٹمی فورس کو آپریشنل اور قابل شعور بنانا تھا اسی طرح جس طرح کے بھارت نے بھی چند سال قبل ایک روسی ادارے کے ساتھ رابطہ کیا تھا اور اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے لئے مدد طلب کی تھی۔ امریکی مصنف نے دعوی کیا کہ امریکہ نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام اس لئے جاری رکھنے کی اجازت دی ہے کیونکہ اسے اسلام آباد سے دیگر معاملات میں معاونت کی ضرورت ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے سٹریٹجک اثاثوں کی سلامتی اور تحفظ کی خود دیکھ بھال کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم نے اس حوالے سے کبھی بھی کسی امریکی ماہر سے کوئی مشورہ نہیں لیا۔ ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس میں حقیقت نہیں کہ امریکی رقم پاکستان کے جوہری پروگرام کی طرف منتقل کردی گئی ہے۔ وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے اس طرح کے غیرضروری اور بے بنیاد بیانات گمراہ گن ہیں جن کا مقصد پاکستان کے جوہری پروگرام کے تحفظ اور سلامتی کے متعلق خدشات پیدا کرنا ہے۔ اس طرح کی کوششیں ناکام ہوں گی کیونکہ حکومت اور عوام ہر قسم کے حالات میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے تقدس کے تحفظ کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا کہ امریکہ جوہری اسلحہ کو جدید بنانے میں مدد دے رہا ہے۔