ڈاکٹر قدیر مکمل آزاد ہیں‘ نقل و حرکت کیلئے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں: ڈپٹی اٹارنی جنرل

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے حبس بے جا اور غیرقانونی نظربندی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت 6 فروری تک ملتوی کردی۔ گزشتہ روزاسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے سماعت شروع کی تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قونصل ڈاکٹر ظفر خالق ایڈووکیٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل امجد اقبال قریشی اور وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری ظفیر عباسی عدالت میں موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظفر خالق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود وزارت داخلہ نے تاحال ممتاز ایٹمی سائنسدان کی حبس بے جا اور نظربندی سے متعلق عدالت کو آگاہ نہیں کیا جس میں یہ بتایا جانا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو کس حکمنامہ کے تحت گزشتہ چار سال سے نظربند رکھا گیا ہے جس پر فاضل چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ابھی تک وزارت داخلہ کی جانب سے مکمل جواب دائر کیوں نہیں کیا گیا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل امجد اقبال قریشی نے جواب دیا کہ حکومت ڈاکٹر قدیر کے بارے میں ایسا لائحہ عمل طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے وہ بحفاظت آزادانہ نقل و حرکت کرسکیں اور اس بارے میں عدالت عالیہ کو چند دنوں میں آگاہ کردیا جائیگا۔ بعدازاں ڈپٹی اٹارنی جنرل امجد اقبال قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر قدیر مکمل طور پر آزاد ہیں تاہم حکومت ان کی نقل و حرکت کیلئے حفاظتی اقدامات کو فول پروف بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر قدیر