غزہ پر اسرائیلی بمباری‘ 11 بچوں سمیت 18 فلسطینی زخمی‘ 20 گرفتار

غزہ / اسلام آباد (نیٹ نیوز + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) غزہ پر اسرائیلی بمباری سے گیارہ بچوں اور خاتون سمیت 18 افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہدف خان یونس میں حماس پولیس کے اہلکار محمد السمیری کی موٹر سائیکل تھی۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارہ کے مختلف علاقوں میں کارروائی کے دوران 20 سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے وینزویلا سے اپنے سفیر اور سات سٹاف ممبرز کو ملک بدر کئے جانے کے بعد وینزویلا کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ مڈل ایسٹ سٹڈی سنٹر کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل امریکہ سے اس اسلحہ کی فراہمی کا مطالبہ کریگا جس کا سٹاک اس کے پاس غزہ جنگ کے نتیجے میں ختم ہوگیا ہے۔ اسرائیلی فوج اس قسم کے اسلحہ کو ’’زرہ پوش سانپ‘‘ کا نام دیتی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی نے کہا ہے کہ اسلحہ کی سمگلنگ روکنے کیلئے جب ضرورت پڑی فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ہم اپنی قسمت مصریوں‘ یورپین اور امریکہ کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے۔ ادھر حماس نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل سے جنگ بندی سے متعلق مصری فارمولا زیرغور ہے تاہم جنگ بندی فارمولے میں ناجائز شرائط تسلیم نہیں کریں گے۔ غزہ میں اسماعیل حانیہ نے عرب ممالک کی جانب سے غزہ کی تعمیرنو کے کاموں کو شفاف بنانے کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز کا خیرمقدم کیا تاہم کہا کہ غزہ کی تعمیرنو کے لئے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ ڈیووس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ غزہ کے لئے اکسٹھ کروڑ تیس لاکھ ڈالرامداد کی عالمی اپیل کریں گے۔ بان کی مون نے کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملہ کا مطلب ہے کہ فائر بندی غیر مستحکم ہے اور اسے پائیدار بنانے کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور حماس کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر فرانس نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ان کے سفارتکاروں پر وارننگ شاٹ داغے ہیں۔ دریں اثنا وفاقی دارالحکومت میں جمعرات کو فلسطین کے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مردہ باد اسرائیل ریلی کا انعقاد کیا گیا اس ریلی کا انعقاد علمائے اہل سنت ضلع اسلام آباد نے کیا تھا۔
اسرائیلی بمباری