ٹریک ٹو سفارتکاری ہو یا خاموش رابطے ‘ بھارت مسئلہ کشمیر پر پیشرفت کرنے کو تیار نہیں : میر واعظ

ٹریک ٹو سفارتکاری ہو یا خاموش رابطے ‘ بھارت مسئلہ کشمیر پر پیشرفت کرنے کو تیار نہیں : میر واعظ

اسلام آباد (جاوید صدیق) ٹریک ٹو سفارت کاری ہو یا خاموش رابطے، بھارت مسئلہ کشمیر پر کوئی پیشرفت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں بھارت کو کئی رعائتیں دی گئیں مگر اس نے کشمیر کے مسئلہ پر کوئی لچک نہیں دکھائی۔ یہ بات حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے ”وقت نیوز“ کے پروگرام ”ایمبیسی روڈ“ میں سرینگر سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کشمریوں کو ٹریک ٹو سفارتکاری پر اعتراض نہیں مگر اس عمل میں کشمیریوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ کشمیریوں کو بتایا جائے کہ ٹریک ٹو مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کی کیا پوزیشن ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کشمیر پر کوئی رعایت دینے کیلئے تیار نہیں۔ کشمیریوں پر بھارتی فوج مظالم میں اضافہ کر رہی ہے۔ حتیٰ کہ اب مسجدوں پر اذان دینے پر بھی نمازیوں کیخلاف کارروائی ہوتی ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں کشمیریوں کی گمنام قبریں ملی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کشمیر کو پس پشت ڈال کر تجارت، فنکاروں کے وفود کے تبادلوں تک محدود رہنا چاہتا ہے۔ پروگرام میں آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور کانفرنس کے رہنما سردار احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو اگر کوئی یہ مشورہ دے رہا ہے کہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر وہ بھارت سے تعلقات بہتر بنائیں اور صرف اقتصادی ترقی پر توجہ دیں تو یہ درست مشورہ نہیں زندہ قومیں اپنے حقوق کیلئے ہر حالت میں لڑتی ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ کشمیری تھک چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری روزانہ شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی قیادت اگر تھک گئی ہے تو الگ بات ہے۔ عالمی برادری کشمیر کے مسئلے کی سنگینی سے آگاہ ہے۔ امریکہ اور دوسرے ممالک کو احساس ہے کہ جنوبی ایشیا ایٹمی خطہ ہے۔ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو تباہی آسکتی ہے۔