جماعت اسلامی کا قاہرہ میں مرسی کے حامیوں پر فوج کی فائرنگ کیخلاف مظاہرہ

جماعت اسلامی کا قاہرہ میں مرسی کے حامیوں پر فوج کی فائرنگ کیخلاف مظاہرہ

اسلام آباد (آئی این پی) جماعت اسلامی نے قاہرہ میں مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں پر فوج اور شرپسند عناصر کی جانب سے فائرنگ سے 200 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کیخلاف اتوار کو یہاں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اس صورتحال پر امریکہ، یو این اور نام نہاد این جی اوز کی خاموشی لمحہ فکر یہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام اور سیاسی قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اہم برادر اسلامی ملک مصر میں فوجی ڈکیٹرشپ کو مسترد کریں۔ محمد مرسی کے حامیوں کے قتل عام کے خلاف بھرپور آواز اُٹھائیں۔ اتوار کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے ہونیوالے احتجاجی مطاہرہ کی قیادت جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیر و سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم کررہے تھے جس میں جماعت اسلامی کے درجنوں کارکنوں نے شرکت کی جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور پوسٹرزاٹھا رکھے تھے جن پر مصر میں ہونے والے پرتشد د واقعات کیخلاف نعرے بازی درج تھی۔ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے میاں محمد اسلم نے قاہرہ میں صدر مرسی کے حامیوں پر فوج اور شر پسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں مزید 200 افراد جاں بحق اور ساڑھے چار ہزار افراد زخمی کردئیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا مصر میں منتخب جمہوری حکو مت پر فوجی جارحیت اور رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں سینکڑوں افراد کے جاں بحق ہونے اور ہزاروں افراد کے زخمی ہو نے پر امر یکہ، یو این اور نام نہاد این جی اوز کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ مسلمان ممالک پر بدقسمتی سے امریکہ کے آلہ کار حکمران مسلط ہیںجو مسلمانوں کے خو ن کی قیمت پر اپنے اقتدار کو طول اور امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ مصری عوام کا جرم صرف یہ ہے کہ یہ اسلام کا نام لیتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصر میں جمہوریت بحال کروانے اور خونریزی رکوانے کیلئے عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرے۔
جماعت اسلامی/ مظاہرے