ایم کیو ایم کی حکمت عملی پھر کامیاب آخرکار حکومت کی ضرورت بن گئی: بی بی سی

اسلام آباد (بی بی سی) پاکستان میں انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے موجودہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے متحدہ قومی موومنٹ کو مشورہ دیا تھا کہ اسے خود کو کلیئر کرانا چاہئے۔ ایک نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کے سامنے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ایم کیو ایم اچھی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتی ہے یا اپنے عسکری ونگز کی مدد سے دہشت گردی میں ہی رہنا چاہتی ہے۔ معاف کیجئے گا میں بات سچ کرتا ہوں، پاکستان میں دہشت گردی کی بنیاد اس وقت ڈالی گئی جب ایم کیو ایم نے سیاست میں قدم رکھا، اس سے پہلے کبھی پاکستان میں دہشت گردی والی سیاست نہ تھی اور کراچی کا امن اس وقت خراب ہوا جب کراچی میں ایم کیو ایم کا وجود ہوا۔ میاں نواز شریف کی حکومت میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا گیا، جس کے بعد اردو بولنے والی آبادی میں ایم کیو ایم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ایم کیو ایم گزشتہ دو دہائیوں سے اسی آپریشن کو بنیاد بنا کر نواز شریف پر تنقید کرتی رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں گردش کرنے والے اس انٹرویو میں نوازشریف نے آپریشن کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے کئی لوگوں کو اس کا احساس نہ تھا لیکن بعد میں باتیں کھلتی چلی گئیں اور اس وقت زیادہ باتیں کھلیں جب وہ وزیراعظم بنے۔ ایم کیو ایم کی تنظیمی ویب سائٹ کے آرکائیوز میں اب بھی کچھ ایسے پیجز موجود ہیں جن پر تحریر ہے کہ نواز شریف کیا چاہتے ہیں؟ اس پیج پر رائیونڈ محل اور لندن کے فلیٹ سمیت بدعنوانی کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے، کچھ لاشوں اور پولیس کارروائیوں کی تصاویر ہیں جس کے ساتھ یہ تحریر ہے کہ نواز شریف پاکستان سے مہاجروں کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت اب یہ سب کچھ بھول کر نئے سیاسی سفر کا آغاز کا ارادہ رکھتی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ہمدردوں نے اپنی توپوں کا رخ دونوں جماعتوں کی طرف کر دیا ہے جس میں دونوں کو ماضی کی یاد دلائی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل ہوں یا نہیں؟ متحدہ قومی موومنٹ کے ریفرنڈم کا نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا لیکن مسلم لیگ ن کی غیر مشروط حمایت کرنے کیلئے کارکنوں سے رائے لینا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اندرون اور بیرون ملک دباو¿ کا شکار متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ن) کے منجمد تعلقات کی برف اس وقت پگھلی تھی جب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد میاں نواز شریف کو ٹیلیفون کر کے مبارکباد دی تھی اور جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھی ان کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ نے میاں نوازشریف کی وزرات عظمیٰ کے لئے غیر مشروط حمایت کی اور اب اس حمایت کو صدارتی انتخاب تک لایا گیا ہے مگر اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو وہ لکشمن ریکھا عبور کر کے نائن زیرو جانا پڑا جو اس نے خود کھینچی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے، ایم کیو ایم کی حکمت عملی ایک بار پھر کامیاب رہی ہے۔ اس نے انتخابات کے بعد خاموشی اختیار کر لی تھی اور صدارتی انتخاب کا انتظار کیا جب اسکی اہمیت میں اضافہ ہونا تھا اور وہ آخر حکومت کی ضرورت بن گئی۔ سندھ کی گورنر شپ ہو یا قیادت کو بحران سے نکالنا، بازی دوبارہ اس کے ہاتھ میں آجائیگی۔