فوج نے قربانیوں سے جو حاصل کیا وہ اسے مذاکرات کی میز پر نہیں ہارنا چاہتی: بی بی سی

اسلام آباد (بی بی سی /  نیٹ نیوز) بی بی سی کے مطابق تحریک طالبان 2007ء میں اپنے آغاز سے ہی قوت کے طورپر پاکستان میں سامنے آئی۔ خودکش حملوں سے ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے۔ 2008ء میں جب تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیاں عروج پر تھیں تو وادی سوات کا بڑا حصہ انکے زیراثر تھا۔ طالبان کیخلاف کارروائی کیلئے تعینات ایک لاکھ 56 ہزار فوجیوں کی کمان کرنیوالے جنرل خالد ربانی کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت مشکل میں تھی۔ ہر طرف طالبان تھے ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب حکومت نے صوبائی انتظامیہ کو پشاور س کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا تھا۔ پھر جنگ بندی کی کوششوں اور طویل ہچکچاہٹ کے بعد فوج نے 2009ء میں سوات میںآپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے دوران طالبان کو علاقے سے باہر نکال دیا گیا۔ حکومت کی عملداری بحال کرا لی گئی۔ اس کے بعد سے طالبان کے خلاف آپریشنوں میں پانچ ہزار سے زیادہ فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ آج طالبان کی عملداری صرف شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی کے کچھ علاقے تک محفوظ ہوکر رہ گئی ہے۔ اس کے باوجود وہ بڑی قوت ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق انکے پاس 25 ہزار عسکریت پسند ہیں تو پاکستان کے بڑے شہروں میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سوال کہ فوج شمالی وزیرستان میں انکے باقی ٹھکانوں کو کیوں نشانہ نہیں بنا رہی‘ خاصا متنازعہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق فوج مے ناقدین کا خیال ہے کہ وہ ان افغان طالبان کو تحفظ دینا چاہتی ہے جو اس علاقے کو محفوظ پناہ گاہ کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلیمنٹ افغان طالبان کو سٹرٹیجک اثاثے کے طورپر دیکھتی ہے جو افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی کردار کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے میں ناکامی کی وجہ سیاسی قیادت کی جانب سے اس سلسلے میں حمایت فراہم نہ کرنے کو قرار دیتی ہے‘ لیکن حکومت طالبان کے معاملے میں نئی راہ پر چل رہی ہے۔ ان سے مقابلہ کرنے کے بجائے وہ مذاکرات کر رہی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں۔ اول یہ کہ کچھ طالبان کی واپسی اور حکومت کی جانب سے ’’زرِ تلافی‘‘ کی ادائیگی کے بدلے لڑائی ترک کر دیں جس کے بعد فوج بقیہ طالبان سے جنگ کر سکتی ہے۔ فوج کو امید ہے کہ ان حالات میں عوام طالبان کیخلاف کارروائی کی حمایت کریں گے کیونکہ یہ گروہ پرامن حل کی پیشکش ٹھکرا چکے ہونگے۔ طالبان گروہوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں طالبان کی تحریک کے آغاز کے بعد سے یہ پہلاموقع ہے کہ ان کی قیادت محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کے پاس نہیں‘ کچھ محسود اس صورتحال سے خوش نہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر اس وجہ سے محسود قبائل تقسیم ہو جائیں تو طالبان کی قوت میں کمی آئیگی۔ مذاکرات کی کامیابی کا دوسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان پاکستان کے شہروں میں اپنی کارروائیاں ختم کرنے پر تیار ہوں جس کے بدلے میں حکومت قبائلی علاقے میں انہیں اپنی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رکھنے کی اجازت دیدے۔ آئی ایس آئی کے اہلکار اور وزیراعظم نوازشریف کے معتمد میجر (ر) عامر کا کہنا ہے کہ طالبان قبائلی علاقے میں ان حالات کی واپسی چاہتے ہیں جب فوج وہاں موجود نہیں تھی۔ اگر فوج وہاں سے نکال لی جاتی ہے تو ممکن ہے طالبان مستقل جنگ کا اعلان کردیں‘ لیکن فوج نہیں چاہتی ہے کہ جو کچھ اس نے ہزاروں جوانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہار جائے۔ جنوبی وزیرستان کے جی او سی جنرل ندیم رضا کا کہنا ہے صرف ایک ہی معاہدہ ہو سکتا ہے کہ وہ آئین اور حکومت کی عملداری کو تسلیم کریں اور پرامن شہری بن کر رہیں ۔ یہی معاہدہ ہے۔ دو برس کے دران فوج نے قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کئے ہیں۔ امریکی اور سعودی امداد کو استعمال کرتے ہوئے فوج کے انجینئروں نے وہاں سڑکیں‘ آبپاشی اور بجلی کا نظام قائم کیا۔ یہ کوششیں اتنی بہتر ہیں کہ جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں پاکستان کے کئی علاقوں سے بہتر انفراسٹرکچر موجود ہے۔ فوج ایسے علاقے کو طالبان کو سونپنے کو تیار دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کا خیال ہے کہ علاقے میں جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد واپس آکر اپنے روایتی قبابلی نظام زندگی کو دوبارہ اپنائیں اور دوبارہ معاشرے کاحصہ بنیں۔ مذاکراتی عمل کے بعض حامی سمجھتے ہیں کہ فوج ہی اصل مئلہ ہے اور اگر وہ علاقے سے چلی جاتی ہے تو طالبان کی مزاحمت جلد دم توڑ جائے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیںکہ فوج کچھ نہیں جانتی۔ فوج کوئی حل بھی نہیں‘ جب امریکی خطے سے چلے جائیں گے تو جہاد بھی ختم ہو جائے گا۔