غداری کیس : سماعت مکمل کرنیکا وقت مقرر نہیں کر سکتے‘ جسٹس فیصل : ایف آئی اے کی رپورٹ دینے کا فیصلہ آٹھ مئی کو سنایا جائیگا

 اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت +ایجنسیاں) مشرف کے خلاف غداری کیس میں خصوصی عدالت نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی عدالت مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کا وقت مقرر نہیں کر سکتی جبکہ پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا ہے کہ غداری کیس میں مشرف کی متفرق درخواستیں تاخیری حربے ہیں، ٹرائل مکمل کرنے کیلئے وقت مقرر کیا جائے۔ ٹرائل میں عدم پیشرفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ ساڑھے پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ٹرائل شروع ہی نہیں ہو سکا۔ انہوں نے استدعا کی  جلد ٹرائل مکمل کرنے کیلئے عدالت وقت مقرر کرے جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کوئی عدالت مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کا وقت مقرر نہیں کر سکتی۔ اکرم شیخ نے کہا  اگر عدالت چاہے تو استغاثہ جلد ٹرائل مکمل کرنے کی درخواست کر سکتا ہے۔ مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ یہ تاثر نہ لیا جائے کہ ٹرائل میں میری وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ خصوصی عدالت ایکٹ 1976ء کی دفعہ 6 اے سے متعلق درخواست واپس لے لی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا خصوصی عدالت ایکٹ کی دفعہ چھ اے غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ فروغ نسیم نے کہا ایف آئی اے تحقیقاتی رپورٹ دینے کے بارے میں فیصلے تک کارروائی نہ بڑھائی جائے۔ عدالت فیصلے کی تاریخ مقرر کر کے تب تک سماعت ملتوی کرے۔ عدالتی فیصلے کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی طے کروں گا۔ فروغ نسیم کی درخواست واپس لینے کی استدعا پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا اس نوعیت کی درخواست دوبارہ دی گئی تو بنچ اُسے بھی منظور کریگا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ دینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ 8 مئی کو سنایا جائے گا۔