سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ میرٹ، ویٹنگ لسٹ کے مطابق کی جا ئے: سپر یم کورٹ

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے سرکاری مکان کی الاٹمنٹ کے حوالے سے ایف آ ئی ا ے انسپکٹر محمد ریاض کی درخواست نمٹاتے ہوئے سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ میرٹ اور ویٹنگ لسٹ کے مطابق کرنے کے احکامات جاری کئے۔ جسٹس ناصر المک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ میں والد کی ریٹائرمنٹ پر بیٹے کو مکان کی الاٹمنٹ بارے رولز کا جائزہ لینا پڑیگا کیونکہ سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ کوئی وراثتی معاملہ نہیں ہے کہ والد کے بعد بیٹے کو مکان دے دیا جائے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ٹیسٹ سٹیٹ آفس قانون کے مطابق اور انتظار کرنے والے سرکاری ملازمین کی فہرست کے مطابق جس کی باری آئی گی ان کو مکان الاٹ کیا جائیگا۔ پیر کے روز جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ملازم کا شف کے والد فوت ہوگئے تو انہوں نے اپنے والد کو الاٹ شدہ مکان حاصل کرنے کی درخواست دی جس پر سٹیٹ آفس نے کہا کہ یہ مکان ان کا حق نہیں بنتا بلکہ اس کے لئے سید مرتضی نامی ویٹنگ لسٹ پر موجود سرکاری ملازم کا حق ہے اس پر کاشف نے سول عدالت سے رجوع کیا۔ سول، ہائی کورٹ سب نے اس کے حق میں فیصلے دیئے۔ اس دوران ایف آئی اے کے انسپکٹر محمد ریاض نے قانونی طریقے سے مکان الاٹ کرا لیا تاہم سٹیٹ آفس نے مکان اس کو دینے سے بھی انکار کر دیا جس پراس نے پہلے ہائی کورٹ رجوع کیا ان کی درخواست خارج کر دی گئی جس پر وہ سپریم کورٹ آگیا تاہم عدالت نے کہا کہ سٹیٹ آفس کے مطابق تو ویٹنگ لسٹ میں موجود سرکاری ملازم کا حق بنتا ہے۔