جوڈیشل افسروں کی غیر عدالتی اسامیوں پر تعیناتی صرف لاء ڈویژن اور ڈیپارٹمنٹس تک محدود ہے: وفاقی وزارت قانون

 اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+اے پی پی)وفاقی وزارت قانون نے جوڈیشل افسروں کی انتظامی محکموں میں تعیناتی سے متعلق قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے 26 اپریل  کے اجلاس  میں کئے گئے  فیصلے کے حوالے سے 27 اپریل کو مختلف اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کے اجلاس میں جوڈیشل افسروں کو ڈیپوٹیشن پر انتظامی محکموں میںنہ بھیجنے کے حوالے سے پالیسی کے سابقہ فیصلے کا اعادہ کیا گیا ہے دوسرے یہ کہ جوڈیشل افسروں  کی غیر عدالتی آسامیوں پر تعیناتی کو لاء ڈوثرن / لاء ڈیپارٹمنٹس تک محدود کیا گیا ہے تیسرے یہ کہ کسی جوڈیشل آفیسر کولاء ڈیپارٹمنٹ میں تعیناتی کی اجازت کی صورت میں یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ عدلیہ کو خیرباد کہے گا  بعدازاں وہ جوڈیشل افسر نہیںسمجھا جائے گا چوتھے یہ کہ کسی جوڈیشل افسر کو جوڈیشل سروس چھوڑنے اور لاء  ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کرنے کی اجازت صرف متعلقہ ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی دے گی۔   یہ بات واضح ہے کہ اس حوالے سے سابقہ فیصلے کو واپس نہیں لیا گیا۔ انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدگی کے اصول کا آئندہ بھی احترام کیا جائے گا۔ اس حوالے سے لا اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکرٹری راجہ اخلاق نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں جوڈیشل افسروں کی انتظامی محکموں میں تعیناتی سے متعلق قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے۔