بیوریج صنعت سے ٹیکس وصولی میں کمی، الیکٹرانک والیم ٹریکنگ سسٹم کے نفاذ کی سفارش

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار نے آنیوالے بجٹ میں بیوریج کی صنعت کے حوالے سے الیکٹرانک والیم ٹریکینگ کے نظام کے نفاذ کی سفارش کرتے ہوئے ڈیوٹی اینڈ ٹیکس رمیش فار ایکسپورٹس سکیم (ڈی ٹی آر ای) پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے نفاذ پر غور کیلئے ایک خصوصی کمیٹی کے قیام کی ہدایت کردی جو  کہ 2 ہفتے میں قائمہ کمیٹی کے سامنے اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔ پیر کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اسد عمر کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں ملک کی بیوریج کی صنعت پر نافذ کئے جانے والے کیپٹسی بیوریج ٹیکس اور اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیوں سے متعلقہ معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران شہروں میں جعلی مشروبات پر بے نتیجہ بحث رہی۔ تمام شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شہروں میں جعلی مشروبات کی تیاری اور فروخت میں قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ عوام کی صحت کیلئے خطرناک ہے  تاہم اس حوالے سے ساری کارروائی صرف بحث تک ہی محدود رہی اور عملاً کمیٹی نے اس حوالے سے کوئی ہدایت یا سفارشات پیش نہیں کیں۔کھپت میں 20 سے 28 فیصد تک اضافہ کے باوجود مشروبات کی صنعت کی جانب سے ٹیکسوں کی ادائیگی میں خاص کمی ہوئی ہے۔ مشروبات کی صنعت سے  ٹیکس وصولی کا ہدف 25 فیصد تھا تاہم عملی طور پر اس سے کئی گنا کم ٹیکس وصول ہوا ہے ۔سیکرٹری وزارت صنعت وپیداوار کا کہنا تھا کہ بیوریجز کی صنعت کو درپیش ٹیکس مسائل کے حل کیلئے حکومت نے بارہا شراکت داروں سے بات چیت کی جس کے  بعد  ان کیلئے کیپٹسی ٹیکس کا نفاذ کیا گیا اور اس حوالے سے مشروبات کی صنعت کے تین بڑے نمائندوں نے اس تجویز کی حمایت کی تھی تاہم بعد ازاں دیگر مقامی شراکت داروں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا۔