ایشیائی ترقیاتی بینک بجلی کی کمی پر قابو پانے کیلئے 40 کروڑ ڈالر دیگا، معاہدہ طے پا گیا

اسلام آباد (این این آئی + نوائے وقت رپورٹ) ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان میں بجلی کی کمی پر قابو پانے کیلئے 40 کروڑ ڈالر کا قرضہ فراہم کریگا۔ اس سلسلہ میں پیر کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور حکومت پاکستان کے درمیان معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نرگس سیٹھی جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)کی طرف سے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ورنر ای لیپیچ نے دستخط کئے۔ تقریب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ قرض پروگرام پاکستان کو سستی بجلی صنعتی اور نجی صارفین کو بلا رکاوٹ فراہمی کی غرض سے کلیدی اصلاحات میں مدد کریگا۔ توانائی کے شعبے میں اس اہم معاونت سے شرح نمو میں بہتری، کاروباری ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور اے ڈی بی کے گورنر بھی موجود تھے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک جاپان اور عالمی بینک کے ساتھ مل کر حکومت پاکستان کو بجلی کی اضافی فراہمی خسارے میں کمی اور پاور سیکٹر کی استعداد میں بہتری کے پانچ سالہ پروگرام کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 2016 ء تک ٹیرف کو حالات کے مطابق ڈھالنا اور کم آمدنی والے صارفین کے سوا دیگر صارفین کیلئے سبسڈی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ ورنر ای لیپیچ نے کہا کہ اصلاحات کے نتیجہ میں شفافیت اور احتساب کے عمل میں بہتری آئیگی جس سے نجی شعبے کی طرف سے پاور سیکٹر میں کی جانیوالی سرمایہ کاری کے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں گے۔ جنوری 2018 ء تک مکمل ہونیوالے پروگرام کے ذریعے ایشیائی ترقیاتی بینک ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا جبکہ پہلے ذیلی پروگرام کیلئے چار کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی معاون سرمایہ کاری جاپان کی طرف سے جبکہ 60 کروڑ ڈالر عالمی بینک کی طرف سے متوقع ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا  رقم سے پاکستان کے مجموعی قرضے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ قرض کی رقم سے کول پاور پراجیکٹ لگائے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں معاہدے سے پاکستان کو 4 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔ قرض آسان اقساط پر 25 سال میں واپس کیا جائے گا۔ قرضے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ توانائی کے شعبے کیلئے قرض کی فراہم پر اے ڈی بی کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ عالمی بینک اور ادارے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔ یکم مئی کو پاکستان کے حوالے سے عالمی بینک کا اجلاس ہوگا۔